جلگاؤں میں پولیس اور میونسپل کارپوریشن نے نابالغ لڑکی سے زیادتی اور ڈرگس کے ریکٹ کے سنگین معاملے میں بلڈوزر کارروائی کی۔
سپریم کالونی میں ہارون دیشمکھ کے مکان کے باہر موجود شاپ کو منہدم کیا جارہا ہے۔تصویر: آئی این این
جلگاؤں میں پولیس اور میونسپل کارپوریشن نے نابالغ لڑکی سے زیادتی اور ڈرگس کے ریکٹ کے سنگین معاملے میں بلڈوزر کارروائی کی۔ یہ مشترکہ کارروائی پیر کی رات میں شہر کے دو الگ الگ مقامات پر ایک فاطمہ نگر اور دوسری سپریم کالونی میں منصوبہ بندطریقہ سے کی گئی ۔اس میں فاطمہ نگر میں کارروائی کے دوران میونسپل کارپوریشن کی ٹیم کو ناکامی ہاتھ آئی ۔یہاں جس تجاوزات پر کارروائی کرنی تھی، وہ میونسپل حدود میںنہیں ہے۔اس لئے صرف سپریم کالونی علاقے میں کارروائی کی گئی۔
پچھلے دنوں جلگاؤں شہر کے رامانند نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری اور اسے ڈرگس کی لت لگانے کا معاملہ درج ہوا تھا۔اسی معاملے میں گرفتار دو مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے بعد پولیس نے شہر میں سرگرم ڈرگس ریکٹ کے ممبران کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔پولیس کی جانچ میں مبینہ طور پر شہر بھر میں ڈرگس کا ریکٹ چلانے والے ۶؍ افراد کے نام سامنے آنے کے بعد ان کی ناجائز تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلے میں کارپوریشن سے خط و کتاب کی گئی جس کے بعد پیر کی شب پہلی کارروائی عمل میں آئی ہے۔مزید تفصیلات کے مطابق سپریم کالونی علاقے میں رئیس ہارون دیشمکھ نامی شخص کے مکان کے باہر دو شاپ پر یہ کارروائی کی گئی ۔ رئیس دیشمکھ کو پولیس نے جلگاؤں کے کرشی اُتپن بازار سمیتی کے پاس کی گئی ایک کارروائی کے دوران ڈرگس کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔
جلگاؤں ایم آئی ڈی سی پولیس نے میونسپل کمشنر کو جن ۶؍ افراد کی ناجائز تجاوزات ہٹانے کیلئے خط دیا تھا، اس میں رئیس دیشمکھ، توصیف سید، کنال عرف لکی پاٹل، امجد عرف بلڈر شیخ، عمران عرف آئمہ بھستی اور انور پٹیل کے نام شامل ہیں ۔پولیس کے خط کے مطابق کارپوریشن اس کی تصدیق کرے کہ ان ۶؍ افراد کے مکانات قانونی ہیں یا نہیں اور کارروائی کرے۔ اس خط کے بعد پیر کی رات کارروائی کی گئی۔اب دیکھنا یہ کہ بقیہ افراد کے یہاں کارروائی کب ہوتی ہے۔