دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ آزادی صحافت کو غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھمکی، یا ایسے مواد کی اشاعت کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جو عوامی نظم کو خطرے میں ڈالے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ آزادی صحافت کو غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھمکی، یا ایسے مواد کی اشاعت کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جو عوامی نظم کو خطرے میں ڈالے۔
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ آزادی صحافت کو غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھمکی، یا ایسے مواد کی اشاعت کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا جو عوامی نظم کو خطرے میں ڈالے۔جسٹس گریش کتھپالیا نے یہ تبصرے دو افراد کو ضمانت دیتے ہوئے کیے جو مبینہ طور پر دو آزاد یوٹیوبرز پر حملہ آور ہوئے تھے جو خبروں کا مواد تیار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ۴؍ جولائی۲۰۲۵؍ کو پیش آیا، جب دو افراد جنہوں نے خود کو ’’میڈیا ‘‘سے بتایا، دہلی کے سیماپوری علاقے میں بنا اجازت کالونی میں ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ ان پر مبینہ طور پر چند مقامی باشندوں نے حملہ کیا، جنہوں نے ان کی موٹر سائیکل کو نقصان پہنچایا اور ان کے موبائل فون سمیت سامان چھین لیا۔اگلے روز ان الزامات کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔استغاثہ کا موقف تھا کہ یہ حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ تاہم، عدالت نے نوٹ کیا کہ شکایت کنندگان کسی تسلیم شدہ میڈیا تنظیم سے وابستہ نہیں تھے اور ایک یوٹیوب چینل کے لیے بطور آزاد صحافی کام کر رہے تھے۔ عدالت نے کہا کہ شکایت کنندگان کا ریکارڈنگ شروع کرنے سے پہلے پولیس کو اطلاع نہ دینا حملے کو جائز نہیں ٹھہراتا، تاہم استغاثہکی دلیل کہ یہ حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے، قابل غور ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے سے شہریت ختم نہیں ہوتی: سپریم کورٹ
مزید برآں عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ ’’بڑی حد تک غیر منظم ‘‘ ہو گیا ہے۔آج عملاً کوئی بھی شخص جو موبائل فون اور مائیکروفون سے لیس ہے، بغیر کسی صحافتی تربیت، اخلاقی بنیاد یا جوابدہی کے خود کوصحافی قرار دے سکتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’خود ساختہ صحافیوں کا شہریوں کے پاس مائیکروفون لے کر جارحانہ انداز میں جانا اور فوری جواب کا مطالبہ کرنا عام ہو گیا ہے۔ جب افراد جواب دینے سے انکار کرتے ہیں، جو ان کا حق ہے، تو اس خاموشی کو بعض اوقات سوالوں سے بچنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘اسی کے ساتھ عدالت نے کہا کہ’’ اس طرح کا رویہ گمراہ کن عوامی بیانیہ تخلیق کرتا ہے اور ناجائز عوامی دباؤ ڈالتا ہے۔‘‘جبکہ عدالت نے انتخابی رپورٹنگ، سنسنی خیزی اور سماجی گروہوں کو نشانہ بنانے والے غیر مصدقہ الزامات کے خلاف بھی خبردار کیا، کہا کہ ایسے طریقے تقسیم کو گہرا کر سکتے ہیں، عوامی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ بے چینی یا عوامی بے نظمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ مقننہ ایک مناسب ریگولیٹری فریم ورک پر غور کرے جو آزادی صحافت کو محفوظ رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ جوابدہی، اخلاقی معیارات، اور قانون کی حکمرانی، شہریوں کے حقوق اور وسیع تر عوامی مفاد کا احترام یقینی بنائے۔‘‘