پی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والے آن لائن مواد کو نشانہ بنانے والے حالیہ انتظامی احکامات، آئین کی دفعہ ۱۹(۱)(الف) کے تحت شہریوں کو حاصل، تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کے بنیادی حق کی نفی کے مترادف ہیں۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 6:08 PM IST | New Delhi
پی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والے آن لائن مواد کو نشانہ بنانے والے حالیہ انتظامی احکامات، آئین کی دفعہ ۱۹(۱)(الف) کے تحت شہریوں کو حاصل، تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کے بنیادی حق کی نفی کے مترادف ہیں۔
پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) نے سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے (ٹیک ڈاؤن) کے بڑھتے ہوئے ”من مانے“ احکامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات، آزادیِ اظہارِ رائے کی آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔
The Press Club of India expresses grave concern over the recent spate of takedown orders issued across social media platforms targeting content critical of the government, where creators have been blocked or their material removed.
— Press Club of India (@PCITweets) April 2, 2026
The PCI Managing Committee strongly opposes… pic.twitter.com/HY2IgXMIgf
جمعرات کو جاری کردہ بیان میں، پی سی آئی نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والے آن لائن مواد کو نشانہ بنانے والے حالیہ انتظامی احکامات، آئین کی دفعہ ۱۹(۱)(الف) کے تحت شہریوں کو حاصل، تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کے بنیادی حق کی نفی کے مترادف ہیں۔ بیان میں سپریم کورٹ کے ’شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا‘ کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کورٹ نے آن لائن سینسر شپ کی مبہم دفعات کو کالعدم قرار دیا تھا اور اظہارِ رائے پر ”خوف کے سائے“ ڈالنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
تنظیم نے نوٹ کیا کہ حالیہ دنوں میں فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو متاثر کرنے والے متعدد ٹیک ڈاؤن آرڈرز جاری کئے گئے ہیں۔ ان سے متاثر ہونے والوں میں آلٹ نیوز کے شریک بانی، صحافی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر اور ’نیشنل دستک‘ سمیت دیگر نیوز آؤٹ لیٹس شامل ہیں۔ بیان میں مارچ میں ’4PM نیوز‘ کے یوٹیوب چینل کو بلاک کئے جانے کے معاملے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
پی سی آئی نے ’نیشنل دستک‘، ’مولٹکس‘ (Molitics) اور طنز نگار راجیو نگم کے پیجز اور اکاؤنٹس جیسی متعدد مثالوں کی نشان دہی کی جنہیں آئی ٹی ایکٹ کے تحت حکومتی کی درخواست پر ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا۔ بعض معاملات میں، مخصوص تفصیلات ظاہر کئے بغیر ملک بھر میں مواد تک رسائی روک دی گئی۔ اس صورتحال کو مسلسل اور تشویشناک رجحان قرار دیتے ہوئے پی سی آئی نے کہا کہ یہ اقدامات صحافیوں، آزاد تخلیق کاروں اور مبصرین سمیت تنقیدی آوازوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایکس کا مرکز کو جواب : ۱۲؍ اکاؤنٹ بلاک کرنے کا حکم غیر متناسب اور غیر متوازن
شفافیت کی کمی
تنظیم نے ٹیک ڈاؤن آرڈرز کے گرد چھائی غیر شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے خاص طور پر ان احکامات کی طرف اشارہ کیا جو آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ ۶۹ الف کے تحت جاری کئے جاتے ہیں جو قومی سلامتی یا امنِ عامہ جیسے بنیادوں پر مواد پر پابندی لگانے کی اجازت دیتی ہے۔ پی سی آئی کے مطابق، واضح وضاحتوں کی عدم موجودگی میں یہ عمل، ایک من مانی کارروائی کے مترادف ہے اور اس سے قانونی چارہ جوئی کے راستے محدود ہو جاتے ہیں۔
نئے آئی ٹی قوانین کے اثرات
یہ مسئلہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) قوانین ۲۰۲۱ء میں حالیہ مجوزہ ترامیم کے دوران سامنے آیا ہے۔ ترمیم شدہ قواعد کے تحت پلیٹ فارمز کیلئے نشان زد مواد کو تین گھنٹے کے اندر ہٹانا لازمی ہوگا، اس طرح، حکومتی احکامات کی تعمیل کی سابقہ مدت میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مختصر وقت کی وجہ سے ”ضرورت سے زیادہ سینسر شپ“ ہوسکتی ہے، کیونکہ پلیٹ فارمز کے پاس مواد کی قانونی حیثیت کو جانچنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ پی سی آئی نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات جائز تنقید اور آزاد صحافت کی مزید حوصلہ شکنی کرسکتے ہیں۔
تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائیں اور آئینی تحفظات کو برقرار رکھیں۔ اس نے مزید کہا کہ انتظامی کارروائی کی وجہ سے جمہوری آزادیاں کمزور نہیں پڑنی چاہئیں۔