Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی جل بورڈ نے ایکس کیلئے ۸۵ء۱؍ کروڑ کا ٹھیکہ دیا، شکایات بلاک کردیں

Updated: May 07, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi

دہلی جل بورڈ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ کے انتظام کے لیے ۸۵ء۱؍ کروڑ کا تین سالہ کنٹریکٹ Vermillion Communication Pvt Ltd کو دیا، تاہم کانٹریکٹ ملنے کے فوراً بعد اکاؤنٹ پر عوامی جوابات بند کر دیے گئے۔ آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، ایجنسی کو شکایات کے ازالے اور سوشل میڈیا مینجمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اکاؤنٹ پر پانی اور سیوریج سے متعلق عوامی شکایات کا سلسلہ رک گیا جبکہ بی جے پی لیڈروں، قوم پرستی اور نظریاتی پوسٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دہلی جل بورڈ کی جانب سے اپنے ایکس اکاؤنٹ کے انتظام کے لیے ۸۵ء۱؍ کروڑ کے کنٹریکٹ کے انکشاف نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کارکن نیرج شرما کی جانب سے حاصل کردہ آر ٹی آئی جواب کے مطابق، نومبر ۲۰۲۵ء میں دہلی جل بورڈ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے انتظام کے لیے Vermillion Communication Pvt Ltd کو تین سال کا معاہدہ دیا۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب دہلی میں بی جے پی کی حکومت کو اقتدار سنبھالے تقریباً آٹھ ماہ ہو چکے تھے۔ ایکسپریشن آف انٹرسٹ کی دستاویزات کے مطابق، سوشل میڈیا ایجنسی کو صرف مواد پوسٹ کرنے تک محدود نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اس کے ذمے عوامی شکایات کو سنبھالنا، ان کے حل میں مدد کرنا، بورڈ کی اسکیموں کو فروغ دینا، عوامی رائے کا تجزیہ کرنا اور تعلیمی و تشہیری مواد تیار کرنا بھی شامل تھا۔

مکتوب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، کانٹریکٹ ملنے کے فوراً بعد دہلی جل بورڈ کے ایکس اکاؤنٹ پر عوامی جوابات کا سیکشن بند کر دیا گیا۔ اس سے پہلے شہری اکثر پانی کی قلت، سیوریج بلاک، میٹر کی خرابی، اور پانی نہ آنے کے باوجود بل جاری ہونے جیسی شکایات براہ راست پوسٹ کرتے تھے۔ دہلی جل بورڈ ان شکایات کا جواب بھی دیتا تھا اور ان کی صورتحال سے متعلق اپ ڈیٹس فراہم کرتا تھا۔ لیکن دسمبر ۲۰۲۵ء کے بعد صارفین کے لیے پوسٹس کے نیچے جواب دینا ممکن نہیں رہا، جس پر ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر ایجنسی کو شکایات سنبھالنے کے لیے رکھا گیا تھا تو عوامی رسائی کیوں محدود کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، Vermillion Communication Pvt Ltd کے ڈائریکٹر وانی ہیرمتھ کو ۲۰۲۴ء میں مرکزی وزیر نتن گڈکری کی جانب سے ’’انڈین اچیورز ایوارڈ‘‘ دیا گیا تھا۔ یہی کمپنی اس سے قبل ۲۰۱۷ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے اشتہارات سنبھالنے اور ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل حکومتی تشہیری مہمات کے لیے شارٹ لسٹ ہونے کی وجہ سے بھی توجہ حاصل کر چکی ہے۔ کانٹریکٹ کے بعد دہلی جل بورڈ کے ایکس پر متعدد ایسی پوسٹس دیکھی گئیں جن میں بی جے پی کی شخصیات اور قوم پرستانہ موضوعات کو نمایاں کیا گیا۔
ان پوسٹس میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی سالگرہ، عالمی ہندی دیوس، سوامی وویکانند کا یوم پیدائش، ہندوستانی فوج کے دن، ’’وندے ماترم‘‘ کے ۱۵۰؍ سال مکمل ہونے، اور آزادی کے رہنما لالہ لجپت رائے کی برسی سے متعلق مواد شامل تھا۔ اس کے برعکس، پانی اور شہری مسائل سے متعلق مواد محدود نظر آیا۔ اکاؤنٹ پر بعض اوقات پانی بچانے سے متعلق عمومی مشورے، تصویروں میں پانی کے ضیاع کی نشاندہی، یا پانی کی فراہمی سے متعلق معلوماتی پوسٹس شیئر کی گئیں۔
دہلی جل بورڈ نے اپنی اسکیموں میں سب سے زیادہ توجہ ’’Late Payment Surcharge Waiver Scheme‘‘ کو دی، جس کے تحت پانی کے بقایا بلوں پر جرمانے میں ۱۰۰؍  فیصد رعایت دی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دہلی کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے مسائل مسلسل برقرار ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو عوامی شکایات کے حل کے بجائے تشہیری اور نظریاتی مواد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK