• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی

Updated: September 04, 2026, 4:13 PM IST | New Delhi

پریس کلب آف انڈیا سمیت متعدد صحافتی تنظیموں نے دہلی کے ساکیت تھانے میں آزاد صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق دونوں صحافی میکس اسپتال کے ایک نئے ونگ کی افتتاحی تقریب کی کوریج کیلئے ساکیت گئی تھیں، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا بھی موجود تھیں۔

Journalists Shaheen Khan and Nafisa Khan, who were tortured by Delhi Police. Photo: X
صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان، جنہیں دہلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تصویر: ایکس

پریس کلب آف انڈیا سمیت متعدد صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے آزاد صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان پر ساکیت تھانے میں کئے گئے مبینہ تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ملوث پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دونوں صحافی جمعرات کو ساکیت میں واقع میکس ہسپتال کے ایک نئے ونگ کی افتتاحی تقریب کی کوریج کر رہی تھیں، جہاں مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔ پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ساکیت تھانے کے پولیس اہلکاروں کے ایک گروہ نے پہلے دونوں صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی اور دھکا مکی کی پھر انہیں زبردستی گاڑی میں گھسیٹ کرپولیس تھانے لے گئے۔

 تنظیموں نے الزام لگایا کہ تھانے پہنچنے کے بعد اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) نے پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ انہیں ایک کمرے میں لے جایا جائے، جہاں خاتون پولیس اہلکاروں نے بھی شامل ہو کر شاہین اور نفیسہ کو بے رحمی سے پیٹا۔ اس معاملے میں ۴؍ پی ایم نیوز نیٹ ورک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ شاہین ان کی رپورٹر ہیں اور وہ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوالات پوچھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ نیوز نیٹ ورک نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ اور تھانے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کو فوری طور پر تحویل میں لیا جائے اور اگر کسی پولیس اہلکار نے شاہین کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ان کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد کیا ہے تو اس کے خلاف سخت ترین اقدام کیا جائے۔

پریس کلب کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر صحافیوں کی مذہبی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی اور مذہبی نوعیت کی گالیاں دیتے ہوئے تشدد کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے علاوہ دونوں صحافیوں کو مقدمات (FIR) درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیوز میں دونوں صحافیوں کے جسم پر تشدد اور چوٹوں کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان صحافتی تنظیموں نے دہلی کے پولیس کمشنر انوراگ کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا حکم دیں۔ جبکہ پریس کونسل آف انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ایک غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK