Updated: July 03, 2026, 9:03 PM IST
| New Delhi
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر اس واقعے کی مذمت کی اور پوچھا کہ ”یہ لڑکے صرف اتنا چاہتے تھے کہ لوگ احتجاج کی جگہ پر کتابیں پڑھیں۔ پولیس نے ان پر تشدد کیوں کیا؟“ بعد میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیپکے کو پولیس حکام سے بازپرس کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔
نیٹ - یو جی پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کیلئے جاری ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (Cockroach Janata Party) کے احتجاج کے دوران، جمعرات کو جنتر منتر پر لائبریری کا ٹینٹ لگانے والے دو طلبہ کو مبینہ طور پر گھسیٹ کر پولیس بوتھ لے جایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔
آئیسا (AISA) کے رکن ابھیگیان نے ’مکتوب میڈیا‘ کو بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طلبہ لائبریری کیلئے ٹینٹ لگا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”پولیس آئی اور انہیں ٹینٹ نہ لگانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد پولیس دونوں طلبہ کو پولیس بوتھ میں لے گئی اور ان کی بہت پٹائی کی۔ بعد میں وہاں موجود مظاہرین نے انہیں چھڑایا۔“ یہ دونوں طلبہ ’آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘ (AISF) کے رکن ہیں اور ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ ابھیگیان نے کہا کہ ”پولیس لوگوں پر بہیمانہ تشدد کرنے کے باوجود یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ جسم پر (گہرے) نشانات کیسے نہ پڑنے دیئے جائیں۔“ طلبہ کو ساتھی مظاہرین کی جانب سے چھڑائے جانے کے بعد بالاآخر لائبریری قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی امتحان کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی سفارش
بعد میں، سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ”دہلی پولیس نے جنتر منتر پر لائبریری قائم کرنے پر دو نوجوان لڑکوں پر جسمانی تشدد کیا۔ یہ لڑکے صرف اتنا چاہتے تھے کہ لوگ احتجاج کی جگہ پر کتابیں پڑھیں۔ پولیس نے ان پر تشدد کیوں کیا؟“ بعد میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیپکے کو پولیس حکام سے بازپرس کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔
واضح رہے کہ جنتر منتر پر یہ احتجاج ۲۰ جون سے جاری ہے۔ طلبہ، امیدوار اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں پردھان کے استعفے کے مطالبے کیلئے جمع ہو رہی ہیں۔ نیٹ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات پر لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک اور چھ طلبہ لیڈران ۲۸ جون سے اسی مقام پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔