دہلی ایس آئی آر کے تحت ریکھا گپتا، اروند کیجریوال سمیت۳۳؍ لاکھ ووٹروں کو تفصیلات کی تصدیق کے لیے نوٹس جار ی کیا گیا ہے، جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں، ان کی تعداد مسودہ ووٹر فہرستوں میں شامل ووٹروں کی تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 6:08 PM IST | New Delhi
دہلی ایس آئی آر کے تحت ریکھا گپتا، اروند کیجریوال سمیت۳۳؍ لاکھ ووٹروں کو تفصیلات کی تصدیق کے لیے نوٹس جار ی کیا گیا ہے، جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں، ان کی تعداد مسودہ ووٹر فہرستوں میں شامل ووٹروں کی تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال قومی دارالحکومت کے ان۳۳؍ لاکھ رائے دہندگان میں شامل ہیں، جن کے لیے خصوصی نظرثانی کے عمل میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی رائے دہی کی اہلیت ثابت کر سکیں۔ جن افراد کو نوٹس جاری کیے گئے، ان کی فہرست سنیچر کو دہلی کے چیف الیکٹورل افسر کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی۔ ریکھاگپتا، جو شالیمار باغ حلقے کی ووٹر ہیں، کو نوٹس اس لیے بھیجا گیا کیونکہ ان کی عمر اور ان کے والدین کی عمر کے درمیان فرق۱۵؍ سال سے کم معلوم ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال ضمنی انتخابات: ممتا بنرجی نے ربیع الاسلام کو منا لیا
بعد ازاں حلقے کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے کہا کہ بعد میں انہوں نے مطلوبہ دستاویزات فراہم کیںجس کے بعد تفصیلات کی تصدیق ہو گئی ۔دی انڈین ایکسپریس نے نئی دہلی اسمبلی نشست کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر کے حوالے سے لکھا کہ کیجریوال اور ان کے خاندان نے گزشتہ خصوصی نظرثانی کے عمل میں اپنی شمولیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں ۔کیجریوال کو نوٹس دیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے، عام آدمی پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کے رکن انوراگ دھاندا نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف ایس آئی آر نہیں، بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کھیل ہے۔ اگر ان کی چلے، تو وہ ووٹ کا حق صرف (وزیر اعظم نریندر) مودی اور(مرکزی وزیر داخلہ امیت) شاہ کے لیے مخصوص کر دیں گے، اور اپنے تمام مخالفین کے ووٹ حذف کر دیں گے۔“
علاوہ ازیں دی ہندو نے رپورٹ کیاکہ خصوصی شدید نظرثانی کے عمل کے تحت نوٹس وصول کرنے والی دیگر نمایاں شخصیات میں سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھر اور ان کی اہلیہ سدیش دھنکھر، سابق سپریم کورٹ جج جسٹس مدن بی لوکور، سابق مرکزی وزیر کپل سبل اور ان کی اہلیہ پروملا سبل شامل ہیں ۔ جبکہ لوکور کو نوٹس اس لیے بھیجا گیا کیونکہ ان اور ان کے دادا کی عمر کے درمیان فرق۴۰؍ سال سے زیادہ نہیں تھا۔ دریں اثناء جن ۳۳؍ لاکھ رائے دہندگان کو نوٹس بھیجے گئے ہیں، وہ مسودہ ووٹر فہرستوں میں شامل۹۷؍ اعشاریہ ۵؍ لاکھ ووٹروں کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ ایسے معاملات کی تصدیق۲۹؍ اکتوبر تک مکمل کی جانی ہے، جبکہ حتمی ووٹر فہرستیں۴؍ نومبر کو شائع کی جانی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کا جم غفیر، بے پناہ جوش و خروش، مسائل پر گفتگو
واضح رہے کہ دہلی ان۱۹؍ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں شامل ہے جہاں ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کی جا رہی ہے۔۲۰۲۵ء میں اس عمل کا پہلا مرحلہ بہار میں منعقد کیا گیا۔ اسے دوسرے مرحلے میں۲۰۲۵ء کے آخر اور۲۰۲۶ء کے پہلے نصف میں ۱۲؍ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں تک بڑھایا گیا۔ تاہم جیسے ہی یہ عمل شروع ہوا، خدشات ظاہر کیے گئے کہ نظرثانی سے حقیقی ووٹر فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں اور یہ فہرست انتخابی نتائج کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔