نیتن یاہو اپنے وزراء اور ہزاروں اسرائیلیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے مغربی دیوار کے احاطے میں داخل ہوگئے، یروشلم کے گورنر کا کہنا ہے کہ یہ داخلہ باب الرحمہ پراذان کے بعد ہوا، جو مسجد اقصیٰ کے دروازوں میں سے ایک ہے۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 5:02 PM IST | Jerusalem
نیتن یاہو اپنے وزراء اور ہزاروں اسرائیلیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے مغربی دیوار کے احاطے میں داخل ہوگئے، یروشلم کے گورنر کا کہنا ہے کہ یہ داخلہ باب الرحمہ پراذان کے بعد ہوا، جو مسجد اقصیٰ کے دروازوں میں سے ایک ہے۔
فلسطین کی یروشلم کے گورنرنے اتوار کے اوائل میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، کئی وزرا اور ہزاروں اسرائیلی سخت سیکیورٹی کے درمیان مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مغربی دیوار کے احاطے میں داخل ہوئے۔گورنری نے ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں اسرائیلی قابض قدیم شہر کی وادی اسٹریٹ سے گزرنے کے بعد احاطے میں داخل ہوئے۔گورنری کے مطابق، یہ داخلہ مسجد اقصیٰ کے دروازوں میں سے ایک باب الرحمہ اذان کے بعد ہوا۔ اس نے نوٹ کیا کہ بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے اور قدیم شہر میں خریداری کے لیے اس علاقے میں آئے تھے۔اس نے فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مسجد اقصیٰ آئیں تاکہ قابضین کی یلغاروں کا مقابلہ کریں اور ”قبضے کے منصوبوں کو ناکام بنائیں“ کیونکہ یوم کپور، جو یہودیت کی ایک بڑی مذہبی عبادت ہے، قریب آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تہران میں حکومت حامی مظاہرہ، لاکھوں کی شرکت
واضح رہے کہ اسرائیل مغربی دیوار کو کنٹرول کرتا ہے اور اسے یہودی مقدس مقام کے طور پر اہمیت دیتا ہے۔ یروشلم اسلامی وقف انتظامیہ اور یروشلم گورنری نے کہا کہ یہ دیوار اسلامی مقدس مقامات کا حصہ ہے۔مغربی دیوار کا احاطہ، جسے اسرائیلی حکام چوبیس گھنٹے کھلا رکھتے ہیں، مذہبی تقریبات، یہودی عبادات اور اسرائیلی سرکاری پروگراموں کی میزبانی کرتا ہے۔ داخلے کے مقامات پر سیکیورٹی چیک اور تلاشیاں کی جاتی ہیں۔اسرائیلی گروہوں نے حامیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یوم کپور سے پہلے باب الرحمہ کے باہر جمع ہوں اور ”سلیخوت“ کے نام سے معروف عبادت کریں، جو ۲۱ ؍ستمبر کو شروع ہوگا۔
یاد رہے کہ یہودی تعطیلات کا دورانیہ ۱۲؍-۱۳؍ ستمبر کو عبرانی نئے سال کے ساتھ شروع ہوا اور ۲۱؍ ستمبر کو یوم کپور، یعنی یوم کفارہ؛ ۲۶؍ ستمبر سے ۲ ا؍کتوبر تک سکوت، یعنی عید خیمے؛ اور ۳ ا؍کتوبر کو سمخات تورات، جو سالانہ تورات خوانی کے دورانیے کی تکمیل کی علامت ہے، کے ساتھ جاری رہے گا۔بیان کے مطابق، ۲۰۰۳ء سے اسرائیلی پولیس نے یکطرفہ طور پر اسرائیلی قابضین کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔