ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یو این آئی کا دفتر سیل کر دیا گیا، ادارے نے بغیر نوٹس زبردستی کارروائی کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: March 21, 2026, 1:05 PM IST | New Delhi
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یو این آئی کا دفتر سیل کر دیا گیا، ادارے نے بغیر نوٹس زبردستی کارروائی کا الزام لگایا۔
دہلی میں خبر رساں ایجنسی United News of India (یو این آئی) کے دفتر کو جمعہ کی رات اس وقت سیل کر دیا گیا، جب دہلی ہائی کورٹ نے اس ادارے کو زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کارروائی کے بعد میڈیا حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ یو این آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کسی پیشگی نوٹس کے بغیر زبردستی بے دخل کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، وزارت ہاؤسنگ و شہری امور کے لینڈ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس نے دہلی پولیس اور سی آر پی ایف کی موجودگی میں دفتر کو سیل کیا۔ یو این آئی کے مطابق، تقریباً 3۳۰۰؍ اہلکار احاطے میں داخل ہوئے اور ملازمین کو فوری طور پر نیوز روم خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ادارے نے الزام لگایا کہ خواتین اسٹاف سمیت کئی ملازمین کو زبردستی ان کی نشستوں سے ہٹا کر باہر نکالا گیا اور اس دوران بدسلوکی بھی کی گئی۔
In an unprecedented atrocity and attack on freedom of media in India, the Rafi Marg office of the nation’s oldest news agency, United News of India (UNI), was literally attacked by a police force that would put an anti-terror operation to shame. Employees were not given time to… pic.twitter.com/O1H18imaPs
— The Statesman (@TheStatesmanLtd) March 20, 2026
یو این آئی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انتظامیہ کو موقع دیا گیا کہ وہ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے سکے۔ ادارے نے اسے ’’زبردستی خالی کرانے‘‘ کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ غیر منصفانہ بھی تھا۔ دوسری جانب، دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یو این آئی کو ۱۹۷۹ء میں الاٹ کی گئی زمین کی شرائط کے مطابق دو سال کے اندر ایک جامع آفس کمپلیکس تعمیر کرنا تھا، تاہم چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر کوئی تعمیر نہیں کی گئی۔ عدالت کے مطابق، اس طرح یو این آئی نے ’’قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ‘‘ کر رکھا تھا، اس لیے ۲۹؍ مارچ ۲۰۲۳ء کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے حکم کو درست قرار دیا گیا۔
The sealing of the office of United News of India (UNI), one of the country’s oldest and most respected news agencies, has raised serious concerns over press freedom.
— United News of India (@uniindianews) March 20, 2026
📌 Staff members were forcibly evicted, with several not allowed to retrieve their personal belongings.
📌… pic.twitter.com/dzaLObs49O
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ زمین صرف یو این آئی کے لیے نہیں بلکہ پریس کلب آف انڈیا اور پریس اسوسی ایشن کے مشترکہ استعمال کے لیے الاٹ کی گئی تھی، لیکن یو این آئی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ یو این آئی نے اس اچانک کارروائی کے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں انگریزی، ہندی اور اردو سروسیز کے ۵۰۰؍ سے زائد صارفین تک خبروں کی ترسیل فوری طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ادارے کے مطابق، اس اقدام نے نہ صرف اس تاریخی نیوز تنظیم کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ سینکڑوں ملازمین اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔ یو این آئی کے مالک ادارے The Statesman نے اس کارروائی کو ’’بے مثال ظلم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ہندوستان میں میڈیا کی آزادی پر حملے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ ملک میں میڈیا اداروں کی خودمختاری، سرکاری پالیسیوں اور قانونی تقاضوں کے درمیان توازن کے سوال کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ یہ معاملہ اب نہ صرف قانونی بلکہ صحافتی اور جمہوری حلقوں میں بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں ایک طرف زمین کے استعمال کے قوانین پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب میڈیا کی آزادی کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔