Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ’’محمد دیپک‘‘ کیس میں ایف آئی آر منسوخی سے انکار

Updated: March 21, 2026, 2:08 PM IST | Dehradun

ہائی کورٹ نے دیپک کمار کے خلاف درج ایف آئی آر برقرار رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا اور سوشل میڈیا تبصروں سے بھی روکا۔

Deepak. Photo: INN
دیپک۔ تصویر: آئی این این

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعہ کو جم مالک دیپک کمار المعروف ’’محمد دیپک‘‘ کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا، جو جنوری میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے جس میں انہوں نے دائیں بازو کے ہندوتوا کارکنوں کا سامنا کیا تھا۔ یہ کارکن ایک بزرگ مسلمان دکاندار کو اس کی دکان کے نام پر مبینہ طور پر ہراساں کر رہے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ درخواست گزار کو ایف آئی آر کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر تحقیقات کو روکا نہیں جا سکتا۔ جسٹس راکیش تھپلیال نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ اس کیس میں شامل جرائم سات سال سے کم سزا کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے تفتیشی ایجنسی پر لازم ہے کہ وہ آرنیش کمار ورسیز بہار حکومت کے تحت جاری کردہ سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں پر عمل کرے۔
عدالت نے دیپک کمار کی جانب سے پولیس تحفظ کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ چونکہ وہ زیر تفتیش ہیں، اس لیے وہ اس مرحلے پر پولیس پروٹیکشن کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار کو تفتیشی عمل پر اعتماد رکھنا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو وہ متعلقہ پولیس افسر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، عدالت نے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کی درخواست کو ’’مکمل طور پر غیر ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ عدالت کے مطابق، تفتیش کے دوران ایسے مطالبات نہ صرف تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ تفتیشی اداروں کے مورال پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے ایک اہم ہدایت دیتے ہوئے دیپک کمار کو اپنے خلاف مقدمے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے بیانات جاری تحقیقات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ بنچ نے ریاست کے اس دعوے کا بھی نوٹس لیا کہ درخواست گزار تحقیقات میں تعاون کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم ہیں۔ عدالت نے دیپک کمار اور دیگر متعلقہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ۲۶؍ جنوری کے واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کے ویڈیوز یا پیغامات شیئر کر کے مزید تنازع پیدا نہ کریں۔
یہ معاملہ ۲۶؍ جنوری کے ایک واقعے سے جڑا ہے، جب کچھ ہندوتوا کارکنوں نے ایک مسلمان دکاندار پر اپنی دکان کے نام سے ’’بابا‘‘ لفظ ہٹانے کا دباؤ ڈالا تھا۔ اس موقع پر دیپک کمار نے مداخلت کرتے ہوئے اس عمل کی مخالفت کی تھی۔ جب ان سے ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے خود کو ’’محمد دیپک‘‘ بتایا، جو بعد میں سوشل میڈیا پر ایک علامتی عمل کے طور پر وائرل ہو گیا۔ جہاں ایک طرف اس اقدام کو ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کی علامت کے طور پر سراہا گیا، وہیں دوسری جانب انہیں شدید تنقید، سوشل میڈیا مہم اور مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد اب اس کیس میں تفتیش کا عمل جاری رہے گا، جبکہ قانونی اور سماجی دونوں سطحوں پر یہ معاملہ بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK