Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: ٹریفلگر اسکوائر پر نماز تنازع: برطانیہ میں مذہبی آزادی پر بحث

Updated: March 21, 2026, 2:08 PM IST | London

رمضان افطار پروگرام کے بعد عوامی نماز پر تنازع نے برطانیہ میں مذہبی آزادی اور تنوع پر نئی بحث چھیڑ دی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

برطانیہ میں رمضان کے دوران Trafalgar Square میں منعقدہ افطار پروگرام کے بعد عوامی مقامات پر مذہبی عبادات کے حق پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر ملک کے اٹارنی جنرل رچرڈ ہرمر نے رواداری اور برداشت کی اپیل کرتے ہوئے اپوزیشن کنزرویٹو قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کنزرویٹو پارٹی کے شیڈو جسٹس سیکریٹری نک ٹموتھی نے اسکوائر میں افطار سے قبل مسلمانوں کی اجتماعی نماز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ’’غلبہ‘‘ اور ’’تقسیم‘‘ کی علامت قرار دیا۔ ان کے ان بیانات کی حمایت کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈنوک نے بھی کی، جنہوں نے کہا کہ مذہب کا عوامی اظہار ’’برطانوی ثقافت کے اصولوں‘‘ کے مطابق ہونا چاہیے اور نماز کے دوران مرد و خواتین کی علیحدگی پر بھی سوال اٹھایا۔
اس کے جواب میں رچرڈ ہرمر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ موقف صرف مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی اعتراض یہودی یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عوامی عبادات پر بھی ہوگا یا صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانات معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں اور برطانیہ جیسے متنوع ملک کی روح کے خلاف ہیں۔ یہ افطار پروگرام Ramadan Tent Project کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ بھر میں کھلی افطار تقریبات کا انعقاد کرتا آ رہا ہے۔ اس میں نہ صرف مسلمان بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوتے ہیں، جس کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ٹریفلگر اسکوائر گزشتہ چھ برسوں سے ایسے مذہبی و ثقافتی اجتماعات کا میزبان رہا ہے، جہاں ہندوؤں کی دیوالی، یہودیوں کی ہنوکا اور عیسائیوں کی تقریبات بھی منعقد ہوتی رہی ہیں۔
اسی بحث میں دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے کے لیڈر نائیجل فیرج نے بھی حصہ لیتے ہوئے عوامی مذہبی اجتماعات پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اسے ’’عوامی زندگی کو بدلنے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ ان کے علاوہ کچھ دیگر سیاست دانوں نے بھی بڑے مذہبی اجتماعات پر اعتراض اٹھایا، اگرچہ چھوٹے پیمانے پر عبادات کو قابل قبول قرار دیا۔ دوسری جانب، مختلف حلقوں خصوصاً یہودی میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس معاملے کو مذہبی شناخت کے اظہار کے بنیادی حق سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ عبادت کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر شہری کو اپنے عقیدے کا اظہار آزادانہ طور پر کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں کثیر الثقافتی شناخت اور سماجی ہم آہنگی پر بحث پہلے ہی جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس معاملے نے نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ سیاسی بیانیے، شناخت اور سماجی توازن کے پیچیدہ سوالات کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK