Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ۲۰۲۶ء کیلئے ہندوستان کے یوتھ لٹریسی ایمبیسیڈر مقرر

Updated: June 27, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

نئی دہلی کے باشندے اور دہلی یونیورسٹی کے طالب علم انوراگ کمار کو ورلڈ لٹریسی فاؤنڈیشن نے ۲۰۲۶ء کے لیے ہندوستان کا یوتھ لٹریسی ایمبیسیڈر مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ وہ ۱۰۱؍  ممالک کے ۹۰۰؍ سے زائد نوجوان لیڈروں کے عالمی نیٹ ورک کا حصہ بن گئے ہیں، جو دنیا بھر میں خواندگی کے فروغ اور بچوں میں مطالعے کے رجحان کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

Anurag Kumar. Photo: X
انوراگ کمار۔ تصویر: ایکس

نئی دہلی کے ایک نوجوان کو عالمی سطح پر نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے خواندگی کے سب سے بڑے اقدامات میں سے ایک میں ہندوستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے طالب علم انوراگ کمار کو ۲۰۲۶ء کے لیے ہندوستان کا یوتھ لٹریسی ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد وہ ۱۰۱؍ ممالک کے ۹۰۰؍ سے زائد نوجوان لیڈروں کے اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ بن گئے ہیں جو دنیا بھر میں پڑھنے کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ذمہ داری کے تحت انوراگ کمار مقامی سطح پر خواندگی سے متعلق مہمات کی قیادت کریں گے، کمیونٹی اجتماعات سے خطاب کریں گے اور ایسے بچوں کے لیے آواز بلند کریں گے جو مطالعے اور بنیادی خواندگی کی مہارتوں میں تیزی سے پیچھے رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوگی کا دورۂ علی گڑھ: اے ایم یو میں لاؤڈ اسپیکر پراذان کی مبینہ معطلی، طلبہ برہم

انوراگ کمار کا کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ایک ایسے مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہت سارے بچے صرف اس لیے پڑھنے کی خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کتابیں موجود نہیں ہوتیں۔ میں اس صورتحال کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں اور نوجوانوں کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ مطالعہ ان کے لیے زندگی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔‘‘
ورلڈ لٹریسی فاؤنڈیشن کا یوتھ ایمبیسیڈر پروگرام ۱۶؍ سے ۲۵؍  سال کی عمر کے نوجوانوں کو ان کی مقامی برادریوں میں خواندگی کے سفیر کے طور پر تیار کرتا ہے تاکہ وہ کتاب بینی، ابتدائی تعلیم اور تعلیمی مساوات کے فروغ میں عملی کردار ادا کر سکیں۔ پروگرام کی ۲۳؍ سالہ کوآرڈینیٹر اینابیل نے اس موقع پر کہا کہ دنیا کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ بچوں میں مطالعے کا رجحان مسلسل کم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’بچے کتابوں کے بجائے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ بہت سے خاندان، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، ایک بھی کتاب کے مالک نہیں ہیں۔ ہم عالمی سطح پر پڑھنے کے اعتماد میں کمی دیکھ رہے ہیں اور انوراگ جیسے نوجوان لیڈر اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے آگے آ رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ٹی ای ٹی پرچہ لیک، امتحان ملتوی؛ لاکھوں امیدوار غیر یقینی صورتحال کا شکار

عالمی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ۷۷۰؍  ملین افراد مکمل طور پر ناخواندہ ہیں، جبکہ مزید ۲؍ ارب افراد کو مکمل جملہ روانی سے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اسی طرح کم آمدنی والے گھروں کے ۷۲؍ فیصد بچوں کو پڑھنے سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں طویل المدتی سماجی اور معاشی عدم مساوات مزید گہری ہوتی ہے۔ اینابیل نے بتایا کہ ان میں مطالعے کا شوق بھی ایک ہی کہانی پڑھنے سے پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو اس نے میرے تخیل اور دنیا کے بارے میں تجسس کو نئی وسعت دی۔ یہی چنگاری بعد میں مزید جاننے، مزید دریافت کرنے اور مزید پڑھنے کی مستقل خواہش میں تبدیل ہوگئی۔‘‘
آئندہ تین ماہ کے دوران انوراگ کمار دنیا بھر کے دیگر یوتھ ایمبیسیڈرز کے ساتھ مل کر کمیونٹی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، کتابوں تک بچوں کی رسائی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور ابتدائی عمر میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگراموں کی قیادت کریں گے۔ اینابیل نے کہا کہ ’’مضبوط مطالعے کی صلاحیت ہر بچے کو بہتر تعلیم، خوداعتمادی اور زندگی میں نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انوراگ ہندوستان میں خواندگی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر آواز ثابت ہوں گے۔‘‘ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں بچوں میں مطالعے کی عادت، کتابوں تک رسائی اور بنیادی خواندگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات تیز کر رہی ہیں۔ ورلڈ لٹریسی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس کے یوتھ ایمبیسیڈر پروگرام کے تحت نوجوان لیڈر اپنے اپنے ممالک میں عملی منصوبوں کے ذریعے مقامی سطح پر تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK