Updated: June 27, 2026, 10:12 PM IST
| Tal Aviv
اسرائیل کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے بین اینڈ جیریز اسرائیل کے نئے ’’Milk & Honey‘‘ آئس کریم ذائقے کی تشہیر کرنے والی پوسٹ شدید آن لائن ردعمل کے بعد حذف کر دی۔ اس ذائقے کو اسرائیل کی ’’آفیشل آئس کریم‘‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم غزہ جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا پر اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین نے اسے جاری انسانی بحران کے دوران نامناسب تشہیر قرار دیا، جبکہ اسرائیلی فرنچائز نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ذائقہ جنوبی اسرائیلی برادریوں کی بحالی اور مقامی پیداوار کی حمایت کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں شدید آن لائن تنقید کے بعد بین اینڈ جیریز اسرائیل کے نئے ’’Milk & Honey‘‘ آئس کریم ذائقے کی تشہیر کرنے والی اپنی پوسٹ حذف کر دی۔ منگل ۲۳؍ جون کو شیئر کی گئی اس پوسٹ میں نئے ذائقے کو اسرائیل کی ’’آفیشل آئس کریم‘‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم چند ہی گھنٹوں میں اسے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پوسٹ خاموشی سے ہٹا دی گئی۔ بین اینڈ جیریز اسرائیل کے پروموشنل مواد کے مطابق، ’’Milk & Honey‘‘ ذائقہ جنوبی اسرائیلی برادریوں کی حمایت کے مقصد سے متعارف کرایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آئس کریم میں استعمال ہونے والا دودھ اور کریم کبٹز الومیم کے ڈیری فارمز سے حاصل کیا جاتا ہے، شہد کبٹز ید مورڈیچائی کی مکھیوں کے چھتوں سے لیا جاتا ہے جبکہ اسٹار آف ڈیوڈ کی شکل والے چاکلیٹ کے ٹکڑے بیر شیبہ کی ایک فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس ذائقے کی رائلٹی جنوبی اسرائیل کی بحالی اور ترقی کے منصوبوں کے لیے کام کرنے والی ایالیم اسوسی ایشن کو دی جائے گی۔

تاہم اس اعلان نے سوشل میڈیا پر فوری طور پر شدید ردعمل پیدا کر دیا۔ متعدد صارفین نے غزہ میں جاری انسانی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے اس مہم کو نامناسب قرار دیا۔ کئی افراد نے آئس کریم کی پیکیجنگ کے فرضی ڈیزائن شیئر کیے، جن میں ایک صارف نے لیبل کو تبدیل کرکے ’’Genocidaires’ Delight‘‘ لکھ دیا، جبکہ دیگر نے تبصرہ کیا کہ اس آئس کریم کا ذائقہ ’’نسل کشی جیسا‘‘ ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال پر عالمی توجہ ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی افواج پر غزہ میں فلسطینی بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، جبکہ اسرائیل نے نسل کشی اور جنگی جرائم سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے بین اینڈ جیریز کے اسرائیلی کاروبار اور اس کے عالمی برانڈ کے درمیان برسوں سے جاری اختلافات کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بیوہ خواتین کی بھوک، تنہائی، بے سروسامانی کی المناک داستان
بین اینڈ جیریز اسرائیل اس وقت اپنی امریکی بنیادی کمپنی سے الگ حیثیت میں کام کرتا ہے۔ موجودہ انتظام ۲۰۲۲ء کے اس معاہدے کے بعد وجود میں آیا تھا، جس کے تحت یونی لیور نے اسرائیل میں برانڈ کے کاروباری حقوق مقامی لائسنس یافتہ آوی زنگر (Avi Zinger) کو فروخت کر دیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد اسرائیلی کمپنی کو اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بین اینڈ جیریز کے نام سے فروخت جاری رکھنے کی اجازت مل گئی، جبکہ عالمی کمپنی نے واضح کیا تھا کہ وہ اس فیصلے سے متفق نہیں ہے اور اسرائیلی فروخت سے مالی فائدہ بھی حاصل نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ دراصل بین اینڈ جیریز کے آزاد بورڈ کے ۲۰۲۱ء کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی مصنوعات فروخت نہیں کرے گی کیونکہ ایسا کرنا اس کی سماجی اور اخلاقی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس فیصلے نے یونی لیور، بین اینڈ جیریز کے آزاد بورڈ اور اسرائیلی کاروباری شراکت داروں کے درمیان ایک طویل قانونی تنازع کو جنم دیا، جو کئی برس تک جاری رہا۔ بین اینڈ جیریز کے شریک بانی بین کوہن اور جیریز گرین فیلڈ طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ برس بین کوہن نے اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تربوز کے ذائقے والی ایک الگ آئس کریم تیار کریں گے، کیونکہ ان کے بقول یونی لیور نے اسی نوعیت کے اقدامات کی اجازت نہیں دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیکساس سرکاری اسکولوں میں بائبل کی کہانیاں لازمی مطالعے کیلئے منظور کرنے والی پہلی ریاست بن گئی
حالیہ تنازع نے ایک مرتبہ پھر یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا عالمی برانڈز کے مقامی لائسنس یافتہ اداروں کی تشہیری مہمات کو اصل کمپنی کی پالیسیوں سے الگ سمجھا جانا چاہیے، یا پھر برانڈ کی عالمی شناخت ایسی مہمات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فرنچائز اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ ’’Milk & Honey‘‘ کا مقصد جنوبی اسرائیل کی مقامی برادریوں، کسانوں اور صنعتوں کی مدد کرنا ہے، جبکہ ناقدین اسے غزہ جنگ کے تناظر میں ایک متنازع تشہیری اقدام قرار دے رہے ہیں۔