Updated: June 27, 2026, 8:14 PM IST
| Aligarh
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورۂ علی گڑھ کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی مبینہ معطلی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ سخت سیکوریٹی انتظامات کے باعث کئی گھنٹوں تک اذان کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بعض طلبہ اور مسجد کے ذمہ داران نے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہدایات دیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے پراکٹر اور علی گڑھ پولیس نے ایسی کسی بھی ہدایت سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: ایکس
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورۂ علی گڑھ کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کیمپس میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی مبینہ معطلی نے طلبہ میں شدید ناراضی پیدا کر دی ہے۔ طلبہ نے اس اقدام کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ایسی پابندی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ طلبہ کے مطابق، وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر سخت سیکوریٹی انتظامات کے تحت کیمپس کی مختلف مساجد سے کئی گھنٹوں تک لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی گئی۔ یہ واقعہ یوگی آدتیہ ناتھ کے علی گڑھ کے سرکاری دورے کے دوران پیش آیا، جہاں انہوں نے مختلف عوامی تقریبات میں شرکت کی اور ۳۹۳؍کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ تاہم لکھنؤ کے علی گنج میں کوچنگ سینٹر میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد انہوں نے اپنا دورہ مقررہ وقت سے پہلے مختصر کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نو مسلم پسماندہ طبقات کے مسلمانوں کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے: مدراس ہائی کورٹ
ایک طالب علم کے مطابق ۲۲؍ جون کو آفتاب ہال کے میکڈونالڈ ہاسٹل کی مسجد میں ظہر کی اذان دینے کی تیاری کے دوران انہیں بتایا گیا کہ اگلے روز فجر تک پورے کیمپس میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔طالب علم امان نے بتایا، ’’بعض اوقات طلبہ بھی ہاسٹل کی مساجد میں اذان دیتے ہیں۔ جب میں ظہر کی نماز کے لیے گیا تو مجھے بتایا گیا کہ اگلی صبح تک لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جا سکتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جب میں نے پوچھا کہ یہ فیصلہ کیوں اور کس کے حکم پر کیا گیا تو امام صاحب نے بتایا کہ یہ انتظامیہ کا حکم ہے۔‘‘ امان کے مطابق، انہوں نے دوسرے ہاسٹلز کے طلبہ سے بھی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی یہی صورتحال تھی اور کہیں بھی لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جا رہی تھی۔
آٹھ برس سے اے ایم یو کیمپس میں مقیم امان نے کہا کہ ’’میں نے اتنے برسوں میں کبھی ایسا نہیں دیکھا۔‘‘ فائنل ایئر کے ایک اور طالب علم عظیم الرحمان نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کو مسجد کے امام سے ملاقات کرتے اور وزیر اعلیٰ کے دورے سے قبل لاؤڈ اسپیکر بند رکھنے کی ہدایت دیتے دیکھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے ایم یو کی مساجد کے ناظم پروفیسر محمد رشید کی جانب سے واٹس ایپ گروپس میں بھی ایک پیغام گردش کیا گیا تھا۔ جب اس حوالے سے پروفیسر محمد رشید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ابتدا میں رجسٹرار اور پراکٹر سے تصدیق کرنے کا کہا کہ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف یونیورسٹی تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے شہر کے سول لائنز علاقے میں بھی لاؤڈ اسپیکر پر اذان محدود کی گئی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’نماز تو ادا ہوئی، صرف لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی گئی، اور میرا خیال ہے کہ ہمیں ضلعی انتظامیہ یا حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چندہ چوری معاملہ: سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا بی جے پی پر حملہ
مکتوب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے پراکٹر ندیم خان نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ چند طلبہ کے بے بنیاد الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر یونیورسٹی میں ایسا کوئی فیصلہ ہوتا تو اس کی تحریری اطلاع جاری کی جاتی، لیکن ہمیں ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔‘‘ اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ایل ایل ایم کے طالب علم اور وکیل کیف حسن نے وائس چانسلر، اساتذہ اور دنیا بھر میں موجود سابق طلبہ کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’’یونیورسٹی کی پوری تاریخ میں پہلی مرتبہ مساجد میں اذان کو خاموش کیا گیا۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’یہ ہدایت کس نے جاری کی؟ ایک مسلم یونیورسٹی میں اذان کو کس اختیار کے تحت ایک مسئلہ سمجھا گیا؟‘‘ خط میں یونیورسٹی انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیکوریٹی کے نام پر اذان کی معطلی ایک تشویشناک پیغام دیتی ہے اور انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ فیصلہ کن حالات میں کیوں اور کس کے حکم پر کیا گیا۔
کیف حسن نے کہا کہ ’’چاہے انتظامیہ اس سے اتفاق کرے یا نہ کرے، یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ ہمارے پاس طلبہ موجود ہیں جو اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انتظامیہ ہر طالب علم، استاد اور سابق طالب علم کو یہ جواب دینے کی پابند ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور کس کے حکم پر ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ پہلی بار نہیں کہ یونیورسٹی سیاسی شخصیات کی میزبانی کر رہی ہے، لیکن یونیورسٹی کو سیاسی پروٹوکول کی بجائے اپنی تعلیمی اور ادارہ جاتی روایت کو مقدم رکھنا چاہیے۔‘‘طلبہ نے اساتذہ اور سابق طلبہ سے بھی اپیل کی کہ وہ وائس چانسلر سے اس معاملے پر جواب طلب کریں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی مبینہ پابندی صرف اے ایم یو تک محدود نہیں تھی بلکہ علی گڑھ شہر کے مختلف علاقوں کی مساجد میں بھی وزیر اعلیٰ کی آمد کے دوران اسی نوعیت کی ہدایات دی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر ہندوستان کی خاموشی اخلاقی اور عقلی طور ناقابل جواز ہے: سونیا گاندھی
زہرہ باغ کے رہائشی قاسم عتیق نے دعویٰ کیا، ’’پولیس نے بغیر کسی باضابطہ نوٹس کے زیادہ تر مساجد سے ایمپلیفائر ہٹا دیے تھے، حتیٰ کہ مقامی کونسلر بھی پولیس کی حمایت کر رہے تھے۔‘‘ دھوررا بائی پاس کے ایک باشندے نے بتایا کہ ’’میں عائشہ مسجد میں نماز پڑھتا ہوں۔ جب اذان نہیں ہوئی تو مؤذن نے بتایا کہ پولیس ایمپلیفائر لے گئی تھی اور اگلے دن واپس کر دیا۔ تقریباً ان تمام مساجد میں یہی کیا گیا جہاں سے وزیراعلیٰ کا قافلہ گزرنا تھا۔‘‘ دوسری جانب علی گڑھ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج کمار جدون نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی لاؤڈ اسپیکر ہٹایا گیا۔‘‘ تاحال اس حوالے سے کوئی عوامی طور پر دستیاب سرکاری حکم نامہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ یا یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے الزامات پر کوئی تفصیلی وضاحت جاری کی ہے۔ تاہم اس معاملے نے سیکوریٹی انتظامات اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ٹی ای ٹی پرچہ لیک، امتحان ملتوی؛ لاکھوں امیدوار غیر یقینی صورتحال کا شکار
یہ تنازع اے ایم یو کے بعض حلقوں اور اترپردیش حکومت کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ماضی میں مساجد، اذان اور نماز سے متعلق کئی متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں پال گھر میں ایک انتخابی جلسے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ پانچ برس میں مساجد سے اذان غائب ہو جائے گی۔ طلبہ گروپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ واضح کرے کہ اگر واقعی ایسی پابندی عائد کی گئی تھی تو وہ کس قانونی اختیار کے تحت تھی، جبکہ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر سیکوریٹی خدشات موجود بھی تھے تو متبادل انتظامات کیے جا سکتے تھے، مذہبی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی وسیع بحث جاری ہے، جہاں متعدد صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا سیاسی شخصیات کے دوروں کے دوران مذہبی رسومات کو محدود کیا جانا چاہیے یا نہیں۔