• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں عیسائیوں کے دعائیہ اجتماع میں ہنگامہ، مذہب تبدیلی کے الزامات مسترد

Updated: September 21, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

دہلی کے جنک پوری میں ایک عیسائی دعائیہ اجتماع کے دوران ایک گروہ نے ہنگامہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مذہب تبدیلی کے الزامات عائد کئے۔ تاہم پولیس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیش میں جبری یا کسی متبادل مذہب میں تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دہلی کے جنک پوری علاقے میں واقع حیات سینٹرک ہوٹل میں ۲۰؍ ستمبر کو عیسائی برادری کے ایک دعائیہ اجتماع میں اس وقت بدنظمی پیدا ہو گئی جب ایک گروہ نے ہوٹل میں داخل ہو کر الزام لگایا کہ وہاں ہندوؤں کو عیسائی بنانے کی بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دی سیاست ڈیلی کے مطابق، گروہ کے اراکین نے اجتماع میں خلل ڈالا اور منتظمین پر لوگوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرنے کا الزام عائد کیا۔ 
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اس گروہ کے اراکین ہوٹل کے اندر شدید الزامات لگاتے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ یہاں جنک پوری کے حیات سینٹرک ہوٹل میں عیسائیوں کی طرف سے مذہب تبدیلی کا کام چل رہا ہے۔ واقعے کی ویڈیو بنانے والے شخص نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اجتماع میں موجود تمام بچے ہندو تھے اور اعتراض کرنے والے لوگوں کے ساتھ بدتمیزی اور مار پیٹ کی گئی۔ اس نے الزام لگایا کہ یہاں سو فیصد بچے ہندو ہیں اور انہیں عیسائی بنایا جا رہا ہے، اور جب ہم نے اس کی مخالفت کی تو انہوں نے بدسلوکی شروع کر دی۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ مخالفت کرنے پر کچھ لوگوں کو پیٹا بھی گیا۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ۱۴۰۰؍مسلم خاندانوں سےخالی کرائی گئی زمین پر اڈانی پاور پروجیکٹ شروع

ایک اور ویڈیو میں اسی گروہ کا ایک رکن کچھ فارمز دکھاکر الزام لگاتےہوئےیہ کہہ رہا ہے کہ یہ فارمز اجتماع میں آنے والے لوگوں کو دئیے جا رہے تھے اور تقریباً ۵۰۰؍ ہندوؤں کو پیسے کا لالچ دے کر عیسائی بنایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ شخص کہہ رہا ہے کہ ان سے فارم بھروا کر اور پیسے کا لالچ دے کر تبدیلیٔ مذہب کروایا جا رہا ہے۔ تاہم، مغربی دہلی کے ڈپی سی پی وچتر ویر نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ مقامی عیسائی برادری کا ایک معمول کا ہفتہ وار اتوار کا دعائیہ اجتماع تھا۔ ڈی سی پی نے ایکس پر پوسٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس تفتیش کے دوران متبادل مذہب یا جبری تبدیلی سے متعلق کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے ۵۰۰؍ افراد کی مذہب تبدیلی کے دعوے کو بھی جھوٹ قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان افواہوں پر بالکل یقین نہ کریں۔ 
دی سیاست ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، ویڈیو میں جو فارمز دکھائے گئے تھے وہ دراصل گلوبل رائل پرسٹ ہڈ چرچ کے دعائیہ درخواست فارم اور چرچ کی سرگرمیوں سے متعلق فارم تھے۔ دعائیہ فارم میں شرکاء سے ان کی تفصیلات اور پادری سے کی جانے والی دعا کے بارے میں معلومات مانگی گئی تھیں، جبکہ ’’ویلکم ٹو پرسٹ ہڈ جنریشن‘‘ کے عنوان سے دوسرے فارم میں شرکاء سے چرچ کے اندر ان کی دلچسپی کے عہدوں یا ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ یہ چرچ باقاعدگی سے حیات سینٹرک ہوٹل میں اتوار کے دعائیہ اجتماعات منعقد کرتا ہے۔ چرچ کے ایک سینئر پادری نے ۲۰؍ ستمبر کے اس پروگرام کیلئے انسٹاگرام پر بھی دعوت نامہ شیئر کیا تھا جسے ’’اٹونمنٹ سنڈے سروس‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دعائیہ اجتماع میں مذہب تبدیلی کے کوئی ثبوت یا شواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK