عالمی یومِ مادری زبان کےموقع پراُردوکومہاراشٹرمیں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینےکا مطالبہ

Updated: February 22, 2021, 10:34 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

عالمی یوم ِ مادری زبان کے موقع پر متعدد تعلیمی تنظیموںنے مہاراشٹر میں مراٹھی کے بعد سب سےزیادہ بولی جانے وا لی اُردو زبان اور کثیر تعداد میں اُردو میڈیم اسکول اور طلبہ کے ہونےکی بنیاد پر ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Language Day - Pic : INN
یوم زبان ۔ تصویر : آئی این این

عالمی یوم ِ مادری زبان کے موقع پر متعدد تعلیمی تنظیموں نے مہاراشٹر میں مراٹھی کے بعد سب سےزیادہ بولی جانے وا لی اُردو زبان اور کثیر تعداد میں اُردو میڈیم اسکول اور طلبہ کے ہونےکی بنیاد پر ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی یشن( آئیٹا) مہاراشٹر کے صدرشیخ عبدالرحیم نے انقلاب سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ ’’ جس طرح تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاگیاہے اسی طرح مہاراشٹر میں بھی اُردو زبان کو دو سری سرکاری زبان کا درجہ دیاجائے ۔ کیونکہ مہاراشٹر میں اُردو زبان پڑھنے اور بولنے والو ںکی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس سے قبل بھی آئیٹا اس بات کا مطالبہ کرچکی ہے۔موجودہ ریاستی حکومت سے عالمی یومِ مادری زبان کےموقع پرایک بار پھرآئیٹااُردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘
  اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے کہاکہ ’’ عالمی یوم ِ مادری زبان کے موقع پر ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہےکہ اُردو زبان کو مہاراشٹر میں اس لئے دوسری زبان کا درجہ دیاجائے کیونکہ یہاں مراٹھی کےبعد سب سے زیادہ اُردو بولنے والے موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اُردو میڈیم اسکول اور طلبہ کی تعداد بھی مراٹھی کےبعد سب سے زیادہ ہے۔‘‘ مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک سینا کے صدر ڈاکٹر ایم جے ابھینکر نے کہاکہ ’’مہاراشٹر میں اُردو میڈیم کے اسکول اور طلبہ کے علاوہ اُردو بولنے والوںکی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ اس لئے اُردوزبان کی ترقی اور فروغ کیلئے ہمیں کوشاں رہناچاہئے۔‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK