ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے ’ ایکس پوسٹ‘ پر نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی کی توجہ مبذول کرائی۔ اصل قیمت سے دو ہزارفیصد سے زائد قیمت لینےپرپالیسی بنانے کی تجویز پیش کی۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:22 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے ’ ایکس پوسٹ‘ پر نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی کی توجہ مبذول کرائی۔ اصل قیمت سے دو ہزارفیصد سے زائد قیمت لینےپرپالیسی بنانے کی تجویز پیش کی۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) کے کمشنر تکارام منڈے نے ہوٹل ،ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور فوڈ سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کارروائیوں کے بعد طبی سامان کی قیمتوں کی جانب رخ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا ہے کہ اسپتالوں میں طبی سامان کے نام پر اصل قیمت سے دو ہزار فیصد سے زائد قیمت وصول کی جاتی ہے ۔مثلاً گیارہ روپے کی ایک آئی وی کا ۳۲۵؍ روپے چارج کیا جاتا ہے۔
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نےاپنے پوسٹ میں کہا ہے کہ’’اسپتال کے بل کا سب سے مہنگا حصہ کبھی بھی اسپتال کو چھو نہیں سکتا۔علاج کیلئے داخل ہونے والے مریض کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا طبی سامان کی قیمت اس کی اصل قیمت کی عکاسی کرتی ہے یا وارڈ تک پہنچنے سے بہت پہلے ان سامان کی طے شدہ قیمت اور ان کی اصل قیمت میں جو بنیادی فرق ہے، وہ صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی: مشہور Café Mondegar سمیت ۴؍ ہوٹلوں کے لائسنس معطل
ایک طرف طبی آلات کی ہوشربا قیمتیں ہیں تو دوسری جانب مریض قیمتوں کا موازنہ نہیں کرسکتے، متبادل تلاش نہیں کر سکتے، علاج کے دوران مریض کی جو کیفیت ہوتی ہے، ایسے میںباکس پر چھپے ہوئے نمبر پر سوال نہیں کر سکتے جبکہ مارجنل ریٹیل پرائس ( ایم آرپی) اکثر مینوفیکچررز اور ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے طے کیا جاتا ہے جو تجارتی قیمت سے کہیں زیادہ غیر واضح منافع پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں قیمت برداشت کرنے والی پارٹی کے پاس اس کا اندازہ لگانے کیلئے کم سے کم معلومات ہوتی ہے ۔
تکارام منڈے کے مطابق ’’اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم نے فارماسیوٹیکل ڈپارٹمنٹ کے تحت نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی (این پی پی اے ) کو ایک پالیسی اپنانے کی تجویز پیش کی ہے جس میں کہا گیا کہ ہمیں اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسپتال میںاستعمال ہونے والے بنیادی آلات اور اشیاء کو ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر (ڈی پی سی او) ۲۰۱۳ء کے سیکشن ۴؍ کے تحت لایا جائے تاکہ ان اشیاء کےمنافع پر کنٹرول کیا جاسکے ۔‘‘انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ پچھلے ۳؍ مہینوں میں مہاراشٹر ایف ڈی اے نے ۲؍ہزار ۴۸۵؍ دوا ساز کمپنیوں کی جانچ کی اور ۲۳۰؍ فرموں کے لائسنس معطل کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دھاراوی کے پرائمری اسکول کے اطرا ف شراب اور منشیات کا کھلےعام استعمال
خریداری کی قیمت سے ایم آر پی کئی گنازیادہ
اس تعلق سے تکارام منڈے نے بتایا ہے کہ’’ کس طرح صحت عامہ کے شعبے میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کا تعین ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شہریوں کے نقطہ نظر سے قیمتوں کا تعین بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ کچھ ضروری ادویات کو حقیقی قیمت کنٹرول کے بغیر صرف ایم آرپی کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ ہم نے تمام شعبوں میں اسپتال میں استعمال ہونےو الی اشیاء کی خریداری کی قیمتوں اور ایم آرپی کامطالعہ کیاہے جس میں اصل قیمت اور ایم آرپی میں بڑے مارجن ملے ہیں ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ’’ ایک آئی وی (انٹراوینس) سیٹ ۱۱؍روپے ۵؍ پیسےمیں خریدا جاتا ہے لیکن اس کی ایم آر پی ۳۲۵؍ روپے ہے لہٰذا اس میں ۲؍ ہزار ۸۴۱؍ فیصد کا منافع ہے۔ نیبولائزر / آکسیجن ماسک ۴۰؍ سے ۴۵؍روپے میں خریدا جاتاہے لیکن اس کی ایم آرپی ۶۵۰؍ سے ۷۱۵؍روپے ہوتی ہے۔ متفرق ڈسپوزایبل اشیاء (ماسک، کیتھیٹرز اورکینولا) کی خریداری کی قیمتیں بالترتیب ۲۲، ۲۹؍ اور ۱۹۷؍روپے ہیں جبکہ ان کی ایم آرپی ۴۲۴ ، ۳۰۰؍ اور ۵۰۰؍روپے ہیں۔