کئی مساجد کے ٹرسٹیان کو لاؤڈاسپیکر اتارنے سےمتعلق نوٹس دینے کے ساتھ انتباہ بھی دیا گیا۔ ٹرسٹیان حیرت زدہ۔ کہا: قانون پر عمل کے باوجود پھر کیوں یہ موضوع چھیڑا گیا؟
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 1:39 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malvani
کئی مساجد کے ٹرسٹیان کو لاؤڈاسپیکر اتارنے سےمتعلق نوٹس دینے کے ساتھ انتباہ بھی دیا گیا۔ ٹرسٹیان حیرت زدہ۔ کہا: قانون پر عمل کے باوجود پھر کیوں یہ موضوع چھیڑا گیا؟
مالونی میں گنپتی وسرجن کے دوران مساجد کے قریب اشتعال انگیزی اور کچھ فرقہ پرستوں کے ذریعے ماحول خراب کرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اسی کے پیش نظر گیٹ نمبر۷؍ میں لب ِسڑک واقع انجمن جامع مسجد کے سامنے سے گنپتی گزارنے کے دوران اشتعال انگیزی سے بچنے اور ایسے منڈلوں پر نگاہ رکھنے کا مسجد ٹرسٹ کی جانب سے سینئر انسپکٹر اور اے سی پی سے بات چیت کے دوران مطالبہ کیا گیا۔ دوسری جانب گیٹ نمبر ۵؍ ناکے پر واقع مسجد حضرت علی کے باہر لگائے گئے چھوٹے لاؤڈاسپیکر کو اتارنے یا اسے اندر کی جانب کرلینے کی منگل کو پولیس کی جانب سے ہدایت دی گئی۔ اس کا مقصد پولیس نے احتیاط بتایا تاکہ گنپتی لے جانے کے دوران کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو اور کوئی اشتعال انگیزی نہ کرسکے اورنہ ہی اعلیٰ افسران اپنے ماتحت افسران سے باز پُرس کرسکیں۔ خصوصاً ان دونوں مساجد کے قریب شرپسند جان بوجھ کر شرانگیزی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: مہنگائی اور آن لائن خریداری سے روایتی کاریگرپریشان
ٹرسٹیان کودفعہ ۱۶۸؍کے تحت پولیس کا نوٹس
مسجد حضرت علی اورمہاڈا کی طیبہ مسجد کے علاوہ کئی مساجد(نام بالقصد نہیںلکھا جارہا ہے) کے ٹرسٹیان کو پولیس کی جانب سے دفعہ ۱۶۸؍ کے تحت ۱۴؍ستمبر کو لاؤڈاسپیکر اتارنے کے لئے نوٹس دیا گیا ہے۔ سینئر انسپکٹر رانی لکشمن پوری کے دستخط سے جاری کردہ نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ مالونی پولیس کی حدود میںمسجد ،مدرسہ، گرودوارہ، مندر ، چرچ اوربود ھ وہار ہیں۔ ان عبادت گاہوں کے صدر اورٹرسٹیان کو آگاہ کیاجارہا ہے کہ وہاں لگائے گئے لاؤڈاسپیکر کی آواز سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے اور اس سے متعلق ضابطے کی خلاف ورزی ہورہی ہے ، ایسی پولیس کو شکایت ملی ہے۔ اس لئے عبادت گاہوں پر بغیر اجازت لاؤڈاسپیکرنہ لگائیں اور اجازت لے کرجہاں لاؤڈاسپیکر لگائے گئے ہیں وہاں کے ذمہ داران یاد رکھیں کہ صوتی آلودگی نہ ہونے پائے۔ اگر اس پرتوجہ نہ دی گئی تو یاد رکھئے کہ ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کردہ رٹ پٹیشن ۴۷۲۹،۲۱ ؍اور عدالت کی ہدایت کے مطابق ایسے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ برائے مہربانی اس حسّاس مسئلے کوذہن نشین کرلیجئے۔
یہ بھی پڑھئے:کلیان۔لاتور’جن کلیان ایکسپریس وے‘ منصوبے کو باضابطہ منظوری
ہم لاؤڈ اسپیکر نہیں اتاریں گے، اس کی ۵؍وجہ ہے
مسجد حضرت علی ٹرسٹ کے سربراہ محمدجمیل مرچنٹ نے۱۴؍ستمبر کو پولیس کا نوٹس اور۱۵؍ستمبر کو زبانی انتباہ کےتعلق سے بتایا کہ’’ ہم لاؤڈ اسپیکر نہیں اتاریں گے۔ اس کی انہوںنے۵؍وجہ بتائی۔ اول یہ کہ پابندی سے اجازت لی جاتی ہے۔ دوسرے آواز مقررہ ڈیسیبل کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ تیسرے چھوٹا لاؤڈ اسپیکر لگایا گیا ہے۔ چوتھے اس سے گنپتی لے جانے یا کسی کو پریشانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور پانچویں اس معاملے میں پولیس کی کھلی جانبداری نظرآ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ قانون کی پاسداری کرنے میں پولیس اور انتظامیہ پوری طرح سے بھید بھاؤ سے کام لے رہے ہیں جو خود ان کی ذمہ داری اورقانون کے برعکس ہے۔‘‘
پولیس کا نوٹس سمجھ سے بالاتر ہے
مہاڈا کی طیبہ جامع مسجد کےصدر شمیم خان نے بتایا کہ ’’ لاؤڈاسپیکر کا استعمال نہیںکیا جارہا ہے،پہلے سے ہی تار کاٹ دیا گیا ہے،اس کے باوجود نوٹس دیا گیا ہے اور لاؤڈاسپیکر ہٹانے کی تصویر بھی پولیس نے منگوائی ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پھر یہ موضوع کیوں چھیڑا گیا ہے ؟ بہت پہلے یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔ ‘‘
پولیس کی یقین دہانی
انجمن جامع مسجد کے صدر اجمل خان کے مطابق ’’ سینئرانسپکٹر اوراے سی پی مہیش ٹھاکور سے بات چیت کے دوران انہوں نےیقین دلایا کہ گنپتی وسرجن کے دوران معقول بندوبست رکھنے کےساتھ منڈل والوں سے مزیدبات چیت کی جائے گی تاکہ مساجد کے قریب کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہ ہو اور کسی کو شکایت کا موقع نہ ملےاورنہ ہی کوئی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔‘‘ انہوںنے بھی لاؤڈاسپیکر کے تعلق سے متعدد مساجد کے ٹرسٹیان کو نوٹس بھیجے جانے کا حوالہ دیا۔