Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: ڈجیٹل سیفٹی بل کی تیاری، بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرغور

Updated: June 10, 2026, 8:00 PM IST | Ottawa

کنیڈا ڈجیٹل سیفٹی بل پیش کرنے کی تیاری کررہا ہے، اس میں نابالغوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ممکنہ پابندی بھی شامل ہوگی، شناخت و ثقافت کے وزیر مارک ملر کا کہنا ہے کہ ’’بچے مر رہے ہیں۔‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

سی بی سی نیوز کی منگل کی خبر کے مطابق، وزیر اعظم مارک کارنی کی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بدھ کو قانون سازی پیش کرے گی جس کے تحت۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور ایک نیا ڈیجیٹل سیفٹی ریگولیٹر قائم کیا جا سکے گا۔رپورٹ کے مطابق، `ڈجیٹل سیفٹی ایکٹ اور کنیڈا ڈیجیٹل سیفٹی کمیشن ایکٹ کے نام سے درج یہ بل مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔
بعد ازاں شناخت و ثقافت کے وزیر مارک ملر نے کابینہ کے اجلاس میں جاتے ہوئے صحافیوں سے کہا، ’’میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ یہ ترجیح کیوں ہے۔ بچے مر رہے ہیں۔‘‘تاہم ملر، جو اس بل کی قیادت کر رہے ہیں، اور وزیر انصاف شان فریزر نے ایوان عامہ میں پیش کرنے سے پہلے بل کے مندرجات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ملر نے کہا، ’’یہ کہنا کافی ہے کہ ہم اس ملک میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام معقول اقدامات کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈبلیو ڈبلیو ڈی سی ۲۰۲۶ء: ایپل نے آئی او ایس ۲۷، سری اے آئی اور نیا میک او ایس متعارف کرایا

تاہم  فریزر نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ یہ بل آزادی اظہار کی خلاف ورزی کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ کو اپنی آزادیاں قربان کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ معاشرے میں بحفاظت رہ سکیں۔‘‘چھوٹے بچوں کو درپیش بدلتے ڈجیٹل منظرنامے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فریزر نے کہا، ’’ہم نوجوانوں کی ایک بڑھتی ہوئی نسل دیکھ رہے ہیں جو اس وقت سوشل میڈیا سے متعارف نہیں ہوئی تھی جب وہ بالغ تھے، یونیورسٹی جا رہے تھے اور اپنے پیشے میں داخل ہو رہے تھے۔ ہم ایسے بچے دیکھ رہے ہیں جو۴؍ سے ۵؍ سال کی عمر سے، بعض اوقات اس سے بھی چھوٹے، سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔‘‘
مزید برآں انہوں نے کہا ،’’حکومتوں پر یہ لازم ہے کہ وہ تسلیم کریں کہ جیسے جیسے معاشرہ بدلتا ہے، ٹیکنالوجی کو اپنانے میں اضافہ ہوتا ہے، ہم لوگوں کے حقوق کا احترام کریں، لیکن ساتھ ہی ساتھ جدید چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات بھی کریں۔‘‘ واضح رہے کہ یہ بل سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے تحت ناکام کوشش کے بعد آیا ہے، جب۲۰۲۵ء کے اوائل میں انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی ملتوی کر دی تو ان کا آن لائن نقصانات کا بل ختم ہو گیا۔کنزرویٹو ایم پی کیون واف نے کہا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کیا پیش کرتی ہے، لیکن انہوں نے تجویز دی کہ والدین زیادہ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں والدین کو تربیت دینی ہوگی کہ وہ والدین کا کردار ادا کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں غربت و عدم مساوات پر تحقیق کے اعتراف میں جین ڈریز کو گلوبل ایوارڈ

یاد رہے کہ یہ قانون سازی ایسے وقت میں آئی ہے جب  فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس سے پہلے، جہاں اس مسئلے کو اٹھائے جانے کی توقع ہے ،کئی ممالک نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔یورپی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد آن لائن پلیٹ فارمز کے نوجوانوں کی ذہنی صحت اور بہبود پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان نابالغوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے گزشتہ سال دنیا کی پہلی قومی سطح پر۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی متعارف کرائی، جس میں انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارم شامل تھے۔ جبکہ کینیڈا کے اپنے یورپی اتحادیوں کی طرف جھکاؤ کے ساتھ، یہ اقدام اپنا الگ نقطہ نظر وضع کرنے کی بھی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK