بھیونڈی : ۲۵؍فیصد کوٹے پر نئی قدغن سے نجی اسکولوں کی شمولیت محدود ہوگی، ایم پی جے کا احتجاج ،وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم دیا۔
ایم پی جے کی جانب سے پرانت آفیسر کو میمورنڈم دیا جا رہا ہے۔ تصویر:آئی این این
حقِ تعلیم (آر ٹی ای) ایکٹ کے تحت نجی غیر امدادی اسکولوں میں ۲۵؍ فیصد داخلوں پر عائد نئی قدغن کے خلاف سماجی تنظیم موومنٹ آف پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر (ایم پی جے) نے آواز بلند کی ہے۔ تنظیم نے منگل کو پرانت آفیسر کے توسط سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے نئی شرائط کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ایم پی جے نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ حکم نامے کے ذریعے اسکول کے انتخاب کے لئے ایک کلومیٹر کی حد مقرر کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مستحق بچوں کیلئے معیاری نجی اسکولوں کے دروازے بند ہونے کا اندیشہ ہے۔
ایم پی جے کے مقامی صدر ڈاکٹر انتخاب شیخ کے مطابق آر ٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ءکی دفعہ ۱۲؍ (ایک)(سی ) نجی غیر امدادی اسکولوں کو ابتدائی سطح پر کم از کم ۲۵؍ فیصد نشستیں معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقات (ای ڈبلیو ایس ) کے بچوں کے لئے مختص کرنے کا پابند بناتی ہے۔ قانون میں ’پڑوس‘ کی کوئی قطعی حد مثلاً ایک یا ۳؍ کلومیٹر مقرر نہیں کی گئی، اس کے باوجود حالیہ سرکیولر میں ایک کلومیٹر کی شرط عائد کرنا قانون کی روح کے منافی ہے۔ جبکہ پہلے یہ ۳؍ کلومیٹر کا دایرہ تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس شرط کے باعث شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں نجی اسکول آر ٹی ای کے عمل سے عملاً باہر ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھیونڈی شہرکے مضافات میں قائم ڈاکٹر اوم پرکاش اگروال اور ہولی میری و دیگر اسکول مستحق بچوں کی دسترس سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس سے تعلیمی انتخاب محدود ہوگا اور سرکاری اسکولوں پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔
ایم پی جے نے اس اقدام کو ’اختیارات سے تجاوز‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی ہدایات کے ذریعے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔مزید برآں، تنظیم نے نئے سرکیولر کے ایک اور پہلو پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کے مطابق داخلہ لینے والے بچوں کے دستاویزات کی جانچ کا اختیار اب براہِ راست نجی غیر امدادی اسکولوں کو دے دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل یہ ذمہ داری گروپ ایجوکیشن آفیسر کی سربراہی میں قائم تقریباً ۲۰؍ رکنی آزاد کمیٹی انجام دیتی تھی۔ اس کمیٹی میں اساتذہ، والدین کے نمائندے، سماجی تنظیموں کے اراکین اور انتظامی افسران شامل ہوتے تھے اور اس کی توثیق کے بعد اسکول داخلہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔ نئی تبدیلی سے شفافیت اور غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایم پی جے نے اپنے میمورنڈم میں مطالبہ کیا ہے کہ فاصلے کی بنیاد پر داخلوں کو محدود کرنے والے تمام احکامات فوری طور پر واپس لئے جائیں اور واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ کوئی بھی اہل نجی اسکول محض جغرافیائی قربت کی بنیاد پر آر ٹی ای عمل سے مستثنیٰ نہ ہو۔قانونی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ ماضی میں فاصلے پر مبنی ضوابط پر اعتراضات ظاہر کر چکی ہے اور عدالت کے مطابق بنیادی قانونی حقوق کو انتظامی احکامات کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب محض ایک سرکیولر تک محدود نہیں رہا بلکہ آر ٹی ای کے بنیادی مقصدمحروم طبقات کو مساوی اور معیاری تعلیم کی فراہمی ایک امتحان بن چکا ہے۔ ریاستی حکومت کے آئندہ فیصلے پر ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین کی نظریں مرکوز ہیں۔