دی ٹیلیگراف میں ٹموتھی گارٹن ایش کا مضمون بعنوان ’’سچی آزمائش‘‘ اُن چیلنجوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو درپیش ہیں۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 1:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
دی ٹیلیگراف میں ٹموتھی گارٹن ایش کا مضمون بعنوان ’’سچی آزمائش‘‘ اُن چیلنجوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو درپیش ہیں۔
دی ٹیلیگراف میں ٹموتھی گارٹن ایش کا مضمون بعنوان ’’سچی آزمائش‘‘ اُن چیلنجوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو درپیش ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے پیروں تلے سے زمین تیزی سے کھسک رہی ہے اور اگر نومبر کے ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو ان کی ساری ہیکڑی نکل جائیگی (تب بھی نہ نکلی تو؟یہ اہم سوال ہے)۔ مضمون نگار کے مطابق ٹرمپ کی حکمرانی میں، بالخصوص ۲۰۲۵ء میں ، امریکی جمہوریت غیر معمولی حد تک کمزور ہوئی جس کی توثیق گوتھنبرگ یونیورسٹی کے ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ نے بھی کی ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ امریکی جمہوریت پر اتنا برا وقت کبھی نہیں آیا جتنا ٹرمپ کے دور میں آیا ہے خاص طور پر اس لئے کہ ٹرمپ اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال اس طرح کررہے ہیں جیسے اختیارات کا استحصال کررہے ہیں۔ انہوں نے ۲۲۵؍ ایگزیکٹیو آرڈرس جاری کئے جبکہ ری پبلکن کی اکثریت والی کانگریس نے صرف ۴۹؍ قوانین منظور کئے۔ وہ انتخابات میں آبادی کے ایسے طبقوں کو ووٹ سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو ڈیموکریٹس کو ووٹ دیتے ہیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ نومبر کے ضمنی انتخابات کا منصفانہ اور غیرجانبدارانہ ہونا مشکوک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کی توہین نہ کرنے کا قانون
یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ ٹرمپ کی مقبولیت کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔ افراط زر، روزگار، معیشت، جرائم اور امیگریشن سے متعلق اُن کی کارکردگی اور پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عوام اُن کی خارجہ پالیسی سے بھی ناخوش ہیں۔ غزہ کو تباہ و برباد کرنے والے اسرائیل کے ساتھ ٹرمپ کی نرمی اور درپردہ سرپرستی پر لوگ بھلے ہی کھل کر کچھ نہ کہیں مگر اندر ہی اندر ناراض ہیں کہ ٹرمپ، خلاف ِ انسانیت نیتن یاہو کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اتنی ہی بڑی ایک اور غلطی کی۔ نیتن یاہو کے بہکاوے میں آکر ایران کے خلاف جنگ چھیڑدی، نقصان اُٹھایا، ایران کے ہاتھوں ذلت برداشت کی اور اب تک بھی یاہو‘ کے جال سے نکل نہیں پائے ہیں۔
یہ بات کہ ٹرمپ ایران کے خلاف اُنہی کی شروع کی ہوئی جنگ ہار چکے ہیں سوائے ٹرمپ کے ہر خاص و عام جانتا ہے۔ سینیٹ کے ایک رکن کرس مرفی تو صاف لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ایران سے ہار چکے ہیں۔ اُن کے بقول جتنے زیادہ عرصہ تک جنگ جاری رہے گی، امریکہ اُتنا کمزور اور ایران اُتنا طاقتور ہوگا۔ خبریں آتی ہیں کہ ٹرمپ نے یاہو‘ کو ڈانٹا، بُرا بھلا کہا مگر ڈانٹنے اور بُرا بھلا کہنے کے باوجود وہ تل ابیب کے پٹھو بنے رہنے کی امریکی روایت پر قائم ہیں تاکہ یہودی لابی کے غیظ و غضب سے محفوظ رہیں اور صدارت پر کوئی آنچ نہ آئے۔
یہ بھی پڑھئے: وقت آنے دے دکھا دینگے تجھے اے آسماں!
مختلف سرویز میں ۶۰؍ فیصد لوگوں نے ٹرمپ کے خلاف رائے دی جس سے اُن کی بڑھتی عدم مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یوکرین جنگ رُکوا نہیں سکے اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس سے بھی زیادہ کوئی چیز امریکیوں کو پریشان کررہی ہے تو وہ مہنگائی ہے۔ مہنگائی سے عوام کی جنگ تو ایسی ہے جو کسی دور دراز جگہ پر نہیں لڑی جارہی ہے۔ یہ اُن کی دہلیز پر پہنچی ہوئی ہے مگر ٹرمپ کو کوئی سمجھا سکتا ہے؟