• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دُھبری میں انہدامی کارروائی،۵۵۰؍خاندان بے گھر

Updated: November 03, 2026, 12:56 PM IST | Agency | Guwahati

ان متاثرین میں بیشتر بنگالی مسلمان۔۶۵۰؍ بیگھہ اراضی پر۵۰؍ سے زائد بلڈوزروں سے مکانات اور دیگر تعمیرات منہدم، مزار کے انہدام کیخلاف احتجاج۔

A demolition operation using a bulldozer was carried out in the Ninth Block area of ​​Alamganj, Dhubri. Photo: INN
دھوبری کے عالم گنج میں نائنتھ بلاک کےعلاقے میں بلڈوزر کے ذریعہ انہدامی کارروائی کی گئی۔ تصویر: آئی این این

آسام کے ضلع دھوبری میں یکم نومبر کو انتظامیہ نے بنگالی مسلمانوں کی اکثریت والی ایک بستی میں انہدامی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ۵۵۰؍ خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ عالم گنج کے نائنتھ بلاک علاقے میں تقریباً۶۵۰؍ بیگھہ اراضی پر واقع مکانات اور دیگر تعمیرات کو منہدم کرنے کے لیے۵۰؍ سے زائد بلڈوزر تعینات کیے گئے تھے۔یہ کارروائی اتوار کی صبح۶؍بجے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں شروع ہوئی۔ علاقے میں تقریباً۵۵۰؍ کنبوں کے۴؍ ہزار افراد آباد تھے۔ انہدامی کارروائی کے دوران مقامی لوگوں کو روتے ہوئے اور مسجد میں دعائیں کرتے دیکھا گیا۔ مکانات کے انہدام کے دوران مقامی لوگوں نے کامل پیر صاحب الدین اولیا مزار پر نماز و دعا کی اور مزار کو منہدم کیے جانے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

دھوبری کے ضلع کمشنر دیباکر ناتھ نے بتایا کہ تقریباً ۶۵۰؍ بیگھہ اراضی کو خالی کرانے کا عمل قریب مکمل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق زیر غور مجموعی اراضی تقریباً۸۰۰؍ بیگھہ ہے، جس پر لگ بھگ ۸۰۰؍ خاندان آباد ہیں۔ اس میں سے تقریباً ۱۵۰؍ بیگھہ اراضی سے متعلق۱۶۰؍ درخواست گزاروں کے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: زمین تقسیم ہورہی ہے! دو براعظموں کے درمیان ایسی دراڑ جہاں تیراکی ممکن

دیباکر ناتھ نے کہا کہ انتظامیہ عدالت میں حلف نامہ داخل کرے گی اور گوہاٹی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے وسیع حفاظتی انتظامات کا حوالہ دیکر کارروائی کو پرامن قرار دیا۔ انہدامی کارروائی شروع ہونے سے پہلے تقریباً ۸۰؍ فیصد مکین اپنے سامان کے ساتھ علاقہ چھوڑ چکے تھے۔ جن لوگوں کے پاس زمین سے متعلق دستاویزات نہیں تھیں، انہیں جگہ خالی کرنے کیلئے۱۵؍ دن کی مہلت دی گئی تھی۔

مقامی لوگوں کے مطابق انہدامی کارروائی سے کئی روز قبل ہی گھروں کی بجلی منقطع کر دی گئی تھی، جس کے باعث خاندانوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم بعض خاندانوں نے کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے قانونی راحت کی درخواست دی تھی اور وہ اب بھی وہاں مقیم تھے۔ اس معاملہ میں اگلی سماعت۱۳؍ نومبر کو مقرر ہے۔ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کی کارروائی کے دوران اسکول کی عمارت، ایک مزار اور دیگر عبادت گاہوں کو منہدم نہیں کیا گیا۔آسام میں حالیہ عرصے کے دوران بستیوں کو خالی کرانے اور مکانات منہدم کرنے کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے تقریباً دو ہفتے قبل ناگاؤں، ہوجائی اور گولاگھاٹ اضلاع میں جنگلاتی اراضی پر آباد ۱۱۰۰؍ سے زائد مسلم خاندانوں کو دو روزہ کارروائی کے دوران بے دخل کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں نسلی امتیاز پر مبنی نظام کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ ان تنظیموں کا الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت ریاستی حکومت اس محروم برادری کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کر رہی ہے اور بار بار ان سے شہریت کے ثبوت طلب کیے جا رہے ہیں۔ اسکرول کی رپورٹ کے مطابق گاؤں کے۸۰؍ سالہ رہائشی علی چند فقیر نے کہا، ’’آج بلڈوزروں نے تین گھروں، درختوں، بیت الخلاء وغیرہ کو زمین بوس کر دیا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ وہ۱۹۶۲ء سے اس گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ برہم پتر ندی کی وجہ سے آنے والے سیلاب اور زمین کے کٹاؤ کے باعث وہ پڑوسی ضلع گوالپاڑہ سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔۱۹۷۲ء سے۲۰۱۶ء کے درمیان کئی مکینوں نے توزی نظام کے تحت زمین کا محصول ادا کیا تھا۔ توزی کی رسیدیں سرکاری زمین پر قابض افراد کی جانب سے ادائیگیوں کا ریکارڈ ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK