کیپ ٹاؤن،سیول،جنیوا،برلن،وسطی لندن میں امن پسند اور انسانیت نواز ہزاروں افراد نے سڑکوں پر اترکراسرائیل کی مذمت کی۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 1:09 PM IST | Agency | Cape Town
کیپ ٹاؤن،سیول،جنیوا،برلن،وسطی لندن میں امن پسند اور انسانیت نواز ہزاروں افراد نے سڑکوں پر اترکراسرائیل کی مذمت کی۔
غزہ میں مسلط کردہ جنگ کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں مظاہرین نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے حق میں مارچ کیا۔ مظاہرے میں سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ اور سیاستدان جارج گیلووے نے بھی شرکت کی اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔جنیوا اورشمالی کوریا میں بھی مظاہرین نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جبکہ وسطی لندن میں ہونے والے احتجاج کے دوران غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی فلسطین کے حق میں مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کی صورتحال کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ بعض مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عادل حسین کا انکشاف: او ٹی ٹی نے مجھے ’’اینیمل‘‘ جیسی فلموں کو نہ کہنے کی آزادی دی
واضح ہوکہ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ کے بچوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی بربریت میں ’حمايہ‘ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے ایک انتہائی ہولناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانے والوں میں بچے سرفہرست رہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں بچے شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ لاکھوں بچے ان کے بنیادی حقوق سے محروم ہو گئے۔سینٹر نے ہفتہ کو ’نسل کشی‘ کے عنوان سے شائع کردہ حقائق نامے میں کہا کہ غزہ میں کام کرنے والے اس کے عملہ نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ۱۸؍ سال سے کم عمر کے۲۱؍ہزار۷۴۵؍ بچوں کے قتل کی نگرانی کی اور دستاویز بندی کی، اس کے علاوہ بچوں کی صفوں میں تقریبا ۴۶؍ ہزار زخمیوں کے معاملات ریکارڈ کیے گئے، جن میں اعضاء کے کٹنے کے ۱۱؍ ہزار کیسز بھی شامل ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں صرف قتل و زخمی کرنے تک محدود نہیں رہیں۔