Updated: August 11, 2026, 6:12 PM IST
| New Delhi
ہندستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) نے اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ اور متوازن غذا سے متعلق قوانین کے تحت اضافی چربی، اضافی شکر اور سوڈیم کی زیادہ مقدار والی غذائی اشیاء کی نشاندہی کے لیے ایک مخصوص حد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ہندستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) نے اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ اور متوازن غذا سے متعلق قوانین کے تحت اضافی چربی، اضافی شکر اور سوڈیم کی زیادہ مقدار والی غذائی اشیاء کی نشاندہی کے لیے ایک مخصوص حد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔۱۰؍ اگست کو ’’ایکسٹرا آرڈینری گزٹ آف انڈیا ‘‘میں شائع شدہ مسودہ ضوابط کے مطابق ٹھوس غذائی شے میں فی ۱۰۰؍گرام۴؍ اعشاریہ ۲؍ گرام سے زیادہ اضافی چربی ہونے پر اسےزیادہ چربی والی غذا مانا جائے گا۔ مائع غذائی اشیاء کے معاملے میں فی ۱۰۰؍ ملی لیٹرایک اعشاریہ ۵؍ گرام سے زیادہ اضافی چربی ہونے پر وہ اس زمرے میں آئے گی۔ جبکہ شکر کے لیے بھی الگ حد تجویز کی گئی ہے۔ کسی ٹھوس غذائی شے میں فی ۱۰۰؍گرام۳؍ گرام سے زیادہ اضافی شکر ہونے پر اسے زیادہ شکر والی غذا مانا جائے گا۔ مائع غذائی شے میں فی۱۰۰؍ ملی لیٹر۲؍ گرام سے زیادہ اضافی شکر ہونے پر وہ زیادہ شکر کے زمرے میں آئے گی۔اسی طرح سوڈیم کے لیے ٹھوس غذائی اشیاء میں فی۱۰۰؍ گرام صفر اعشاریہ ۶۲۵؍ گرام سے زیادہ اور مائع غذائی اشیاء میں فی۱۰۰؍ ملی لیٹر صفر اعشاریہ ۱۷۵؍ گرام کی حد تجویز کی گئی ہے۔ اس سے زیادہ مقدار ہونے پر متعلقہ غذائی شے کو زیادہ سوڈیم والی مانا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: انہدامی کارروائی معاملہ: اعلیٰ افسران اپنےعہدوں پر برقرار کیوں ہیں: گجرات ہائی کورٹ
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کے منصوبے کے تحت چلنے والے مڈڈے میل پروگرام میں مبینہ ناقص غذائیت کی شکایات درج کی جارہی ہیں، جہاں اسکولی بچوں کو غیر معیاری کھانا فراہم کیا جارہا ہے، اس کے علاوہ ان کھانوں میں تغذیہ کو مکمل طور پر نظرا نداز کیا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے، فوڈ سیفٹی محکمہ کا یہ مسودہ ان بچوں کو متوازن غذا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔