Updated: August 11, 2026, 6:03 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے اڈانی گروپ سے وابستہ دو کمپنیوں کے منصوبوں کے لیے ریاست کے رائے گڑھ اور امراوتی اضلاع میں تقریباً۸۳۷۰۰؍ مربع فٹ جنگلاتی اراضی کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں رائے گڑھ کے علی باغ علاقے میں ریزرو فاریسٹ اور مینگروو اراضی بھی شامل ہے۔
مہاراشٹر حکومت نے اڈانی گروپ سے وابستہ دو کمپنیوں کے منصوبوں کے لیے ریاست کے رائے گڑھ اور امراوتی اضلاع میں تقریباً۸۳۷۰۰؍ مربع فٹ جنگلاتی اراضی کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں رائے گڑھ کے علی باغ علاقے میں ریزرو فاریسٹ اور مینگروو اراضی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جذباتی ہوئے لکی علی، کہا: ’’میں اپنے کفن کو ساتھ لے کر سفر کرتا ہوں ‘‘
ریاست کے محکمہ جنگلات نے پیر کو اس سلسلے میں دو الگ گورنمنٹ ریزولوشنز (GRs) جاری کیے، جن کے ذریعے اڈانی سیمنٹیشن لمیٹڈ اور اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ کو مخصوص جنگلاتی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
علی باغ میں تقریباً ۷۰؍ ہزار مربع فٹ زمین
سب سے بڑا حصہ رائے گڑھ ضلع کے علی باغ تعلقہ میں واقع شاہ پور اور شہباز گاؤں کے علاقے میں ہے۔ حکومت نے تقریباً۶۴۹۷ء۰؍ ہیکٹر، یعنی لگ بھگ ۶۹۹۳۳؍ مربع فٹ زمین اڈانی سیمنٹیشن کو دینے کی منظوری دی ہے۔ اس زمین میں ریزرو فاریسٹ، نالہ مینگروو فاریسٹ اور کریک مینگروو فاریسٹ شامل ہیں۔ یہ زمین کمپنی کےرائے گڑھ سیمنٹ بلک ٹرمینل منصوبے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
امراوتی میں قدرتی گیس پائپ لائن منصوبہ
دوسری منظوری اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ کو دی گئی ہے۔ اس کے تحت تقریباً۱۲۸۱ء۰؍ ہیکٹر، یعنی۱۳۷۸۸؍ مربع فٹ ریزرو اور شناخت شدہ جنگلاتی اراضی استعمال کی جائے گی۔ یہ زمین امراوتی شہر اور آس پاس کے علاقوں میں قدرتی گیس کی تقسیم کا نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے زیرِ زمین اسٹیل پائپ لائن بچھانے میں استعمال ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:شنیڈر کو شکست دے کر سواتیک سیمی فائنل میں پہنچ گئیں
دونوں منصوبوں کے لیے مجموعی رقبہ کتنا ہے؟
دونوں سرکاری احکامات کو ملا کر تقریباً۷۸ء۰؍ ہیکٹر جنگلاتی اراضی کا معاملہ ہوتا ہے، جو تقریباً ۸۳۷۰۰؍ مربع فٹ کے برابر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں منصوبوں کی نوعیت مختلف ہے۔ رائے گڑھ کا منصوبہ سیمنٹ ٹرمینل اور اس سے متعلق انفراسٹرکچر سے وابستہ ہے، جبکہ امراوتی کا منصوبہ قدرتی گیس کی پائپ لائن سے متعلق ہے۔
مینگرووز کی وجہ سے معاملہ اہم
رائے گڑھ کے منصوبے میں مینگروو فاریسٹ کی زمین بھی شامل ہونے کی وجہ سے یہ منظوری ماحولیاتی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ سرکاری اجازت کچھ شرائط کے ساتھ دی گئی ہے۔ ان میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ جنگلاتی حکام کو منظور شدہ علاقے میں بلا رکاوٹ داخلے اور معائنے کی اجازت دی جائے۔حکومتی حکم کے مطابق اگر متعلقہ کمپنی جنگلاتی حکام کی رسائی میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے تو جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی استعمال کے لیے دی گئی اجازت واپس بھی لی جا سکتی ہے۔