Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے میں پانی کے ٹینکروں پر انحصار تیزی سے بڑھ رہا ہے

Updated: May 13, 2026, 7:54 AM IST | Pune

پورے شہرمیں پانی سپلائی کے درمیان وقفہ میں اضافہ۔اعداد و شمار کے مطابق ٹینکروں پر انحصار اب سال بھر کی ضرورت بن گیا ہے

Water tanker trips in Pune have increased steadily in the last 3 years. (File photo)
پونے میں گزشتہ ۳؍برس میں واٹرٹینکر کی ٹرپ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔(فائل فوٹو)

یہاں پانی کے ٹینکروں پر انحصار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پونے میونسپل کارپوریشن  (پی ایم سی )  کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۳؍برس میں ٹینکر کی ٹرپ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ آبادی میں اضافہ، پانی کی ناہموار سپلائی اور مضافاتی علاقوں میں تیزی سے پھیلاؤ ہے۔
 پی ایم سی  کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۴-۲۰۲۳ءمیںشہر بھر میں ٹینکروں کے کل ٹرپس  ۴؍لاکھ ۳۴۸؍ تھے جو ۲۵-۲۰۲۴ء میں بڑھ کر ۴؍ لاکھ ۸۹؍ہزار ۲۰۲؍ ہوگئے ہو گئے  اور پھر۲۶-۲۰۲۵ء میں یہ تقریباً ۶؍ فیصد بڑھ کر ۵؍لاکھ ۱۷؍ ہزار ۴۲۲؍ ہو گئے۔ یہ رجحان شہرمیں پانی کی تقسیم کے نظام پر بڑھتے  دباؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹینکروں پر انحصار اب شدید گرمی میں پانی کی قلت تک محدود نہیں ہے بلکہ تیزی سے ترقی کرنے والے کئی علاقوں میں یہ سال بھر کی ضرورت بن گئے ہیں جہاں بنیادی ڈھانچہ میں بہتری نہیں آئی ہے۔
 پی ایم سی واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے چیف انجینئر نند کشور جگتاپ نے اس اضافے کو جزوی طور پر آبادی میں اضافے اور نئے ترقی یافتہ علاقوں میں پانی کی بڑھتی  مانگ کو قرار دیا۔ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ا نہوں نے بتایا کہ ’’آبادی میں اضافے کی وجہ سے تھوڑا سا اضافہ معمول کی بات ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے سے میونسپل کارپوریشن میں کوئی منتخب سیاسی  نمائندہ نہیں تھا  اور اب ان علاقوں میں ٹینکر سپلائی فراہم کرنے کا زیادہ دباؤ ہے جہاں پانی کے باقاعدہ کنکشن ناکافی ہیں۔‘‘حکام نے کہا کہ جب تک پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو بڑے پیمانے پر اپ گریڈ نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک مانگ میں اضافہ کا امکان ہے۔
 مارچ اور مئی کے درمیان ٹینکروں کی مانگ عروج پر ہوتی ہے کیونکہ پانی کے  ذخائر کی سطح  گھٹ جاتی ہے  اور کھپت بڑھ جاتی ہے۔ ۲۶-۲۰۲۵ء  میں  صرف مارچ میں ٹینکروں کے۵۸؍ ہزار۳۴۵؍ ٹرپ  ہوئے  جو گزشتہ ۳؍برس   میں کسی ایک مہینہ کی سب سے زیادہ  ٹرپ ہیں۔
 پرائیویٹ کنٹریکٹرس اس سسٹم پر حاوی ہیں  جن کے ٹینکروں کی  سالانہ ٹرپ  ۸۰؍ فیصدسے زیادہ ہوتی  ہیں۔ ’آن کال‘ کی تعیناتی میں بھی تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جب معمول کی سپلائی کم ہوتی ہے تو ٹینکرس کی ہنگامی خدمات حاصل کی گئیں۔۲۶-۲۰۲۵ء میں پی ایم سی نے اس طرح کے۴۹؍ہزار ۶۴۵؍ٹرپ  کئے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹینکروں کے بیڑے کی موجودہ گنجائش اور پانی کی سپلائی کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے جدوجہد جاری   ہے۔
 پرائیویٹ ٹینکر آپریٹر سشانت لونکر نے کہا کہ جب شہری انتظامیہ کی جانب سے پانی سپلائی کم ہوتی ہے تو مانگ میں فوری اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ جب پی ایم سی پانی کی سپلائی میں کمی آتی ہے، نجی ٹینکروں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ بہت سے علاقے اب پانی کی قلت کے دوران ٹینکروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔‘‘
  پی ایم سی کے ٹینکرو ں کے ٹرپس ۳؍برس میں تقریباً ۲۷؍ ہزار سے بڑھ کر۳۲؍ہزار تک پہنچ گئے ہیں لیکن یہ اضافہ مجموعی مانگ کے مطابق نہیں ہے  جس سے نجی آپریٹروں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ملحقہ اور تیزی سے ترقی کرنے والے علاقے جن میں انڈری، پسولی، محمد واڑی، باودھن، سس، نرہے، امبیگاؤں، دھیاری، واگھولی اور کھراڈی کے کچھ حصے، ناکافی پائپ لائنوں اور شہری انتظامیہ کی جانب سے پانی کی سپلائی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے واٹرٹینکروں پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔مکینوں کا کہنا ہے کہ ٹینکروں پر  انحصار معمول بن گیا ہے۔ اندری کے ایک مکین سنیل ایئر نے کہا کہ زیادہ تر ہاؤسنگ سوسائٹیاں سال بھر پرائیویٹ ٹینکروں پر انحصار کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری زیادہ تر پانی کی سپلائی نجی ٹینکروں سے ہوتی ہے۔ حالیہ ٹینکر ہڑتال کے بعد آپریٹرس نے بھی نرخوں میں تقریباً۳۵؍ فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جس سے مکینوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔ 
 ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمی حالات خراب ہوئے تو صورتحال مزید بگڑ  سکتی ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات   نے پیش گوئی کی ہے کہ ’ایل نینو‘ کے اثرات کی وجہ سے امسال بارش اوسط سے کم ہوگی۔

pune Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK