سب سے زیادہ ۳۸۹؍ غیر قانونی اسکول ممبئی میں ، لیکن صرف ۵۹؍ اسکولوں کو بند کیا گیا جبکہ ۱۶؍ اسکولوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا۔
اسکولوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے - تصویر:آئی این این
اگر ریاستی محکمہ تعلیم کے ریکارڈ پر یقین کریں تو اس وقت ریاست میں غیر قانونی اسکولوں کی بہتات ہوتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں محکمہ تعلیم نے ۴۸۷؍ غیر قانونی اسکولوں کی شناخت کی ہے جن میں سے ۷۶؍ اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ایک۱ ۱۱؍ اسکولوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ایجوکیشن کمشنر سچندر پرتاپ سنگھ نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ ۳۲۵؍ اسکولوں پر جرمانہ عائد کی گیا ہےلیکن جرمانہ اب تک صرف ۱۶؍ اسکولوں ہی سے وصول کیا جا سکا ہے۔
ممبئی میں سب سے زیاد ہ غیر قانونی اسکول
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں ڈالنے والے سیکڑوں اسکولوں میں سے صرف چند اسکولوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ ، ۳۸۹؍غیر قانونی اسکول، ممبئی ڈ یویژن میں پائے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف ۵۹؍ اسکول بند ہوئے ہیں۔ جبکہ ۱۶؍ اسکولوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ۳۱۰؍ اسکولوں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف ۵؍ اسکولوں نے جرمانہ ادا کیا ہے۔
اس سے واضح ہو جاتا ہےکہ سخت کارروائی کرنے کے بجائے کاغذ پر گھوڑے دوڑائےجا رہے ہیں۔ ناگپور ڈ یویژن میں، ۱۱؍ میں سے ۴؍ اسکولوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور ۶؍ اسکولوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ امراوتی ڈیویژن میں چار میں سے ایک اسکول کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ناسک، کولہاپور اور اورنگ آباد ڈیویژنوں میں غیر مجاز اسکولوں کی دریافت کے باوجود زیادہ تر مقامات پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر قانونی اسکولوں کا نیٹ ورک کتنا گہرا ہے۔پونے ڈیویژن میں ۶۳؍ غیر قانونی اسکولوں میں سے ۱۱؍ اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ نیز محکمہ تعلیم نے غیر قانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ فی الحال ۷؍ اسکولوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ۱۰؍ا سکولوں سے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے پاس فی الحال جو معلومات دستیاب ہے وہ دو تین ماہ پہلے کی ہیں۔ اس لئے اصل اعدادوشمار میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔ محکمہ تعلیم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدگی سے کام کر رہا ہے کہ ریاست میں کوئی بھی غیر قانونی اسکول طلبہ کو تعلیمی نقصان نہ پہنچائے۔ غیر قانونی اسکولوں کے خلاف مہم کو مزید تیز کیا جائے گا اور ضلع وار انسپکشن میں اضافہ کیا جائے گا۔ نیز سال میں دو بار غیر قانونی اسکولوں کی فہرست کا اعلان کیا جائے گا تاکہ والدین کو بروقت معلومات مل سکے۔