کام کاج چھوڑ کرطویل قطاروں میںکھڑے مالونی کے صارفین اپنی بار ی کاانتظار کرتے ہیں پھر بھی سلنڈر نہیں ملتا ۔گیس ایجنسی کی جانب سےبھی صحیح جواب نہ ملنے کی شکایتیں۔فون نمبرات بھی بند۔
مالونی گیٹ نمبر ایک پر فائربریگیڈ کے پاس سلنڈر کیلئے صارفین قطار میں کھڑے ہیں۔ تصویر: آئی این این
گیس سلنڈر سپلائی کی قلت کا مسئلہ برقرارہے، سیکڑوں صارفین کام کاج چھوڑ کر گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے پر مجبورہیں، اس کے باوجود انہیں مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔ نمائندۂ انقلاب نے بدھ کی صبح سے یہ منظر گیٹ نمبر ایک فائر بریگیڈ کےپاس دیکھا۔یہاں دھوپ کی تمازت برداشت کرتے ہوئے سیکڑوں صارفین طویل قطار میں کھڑے تھے۔ بیشترصارفین خالی سلنڈر اپنے آگے رکھے ہوئے تھے۔ بات چیت کرنے پروہ شدید برہمی کا اظہار کررہے تھے۔حکومت سے ان کا سوال تھا کہ ان کی یہ پریشانی کب ختم ہوگی اورپہلے کی طرح گھر پر بآسانی انہیںسلنڈر کب دستیاب ہوگا۔یاد رہےکہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے گیس صارفین سخت پریشان ہیں ۔سپلائی نظام میںکچھ بہتری ضرور آئی ہے مگر بڑی حد تک مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔
سلنڈر نہ ملنے کی پریشانی صارفین کی زبانی
مالونی کی انبوز واڑی میںرہنے والےفرید شفیع احمد شیخ نےسخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے بتایاکہ ’’ سلنڈر نہ ہونے پر انہوں نے۱۳؍ اپریل کو ۱۲؍ بجکر۱۸؍ منٹ پر بکنگ کی تھی۔ انہیںایجنسی کی جانب سے ۹۷۹۹؍ او ٹی پی بھیجا گیاکہ آپ کا سلنڈر ریلیز کردیا گیا ہے، جب دو دن قبل وہ ایجنسی گئے تو وہاں دستخط لی گئی اورکہا گیا کہ ۲؍ دن بعد آئیے ۔آج جب وہ گیٹ نمبر ایک پہنچے تو ۵؍گھنٹے تک کھڑے رہنے کے باوجود انہیں سلنڈر نہیںمل سکا۔‘‘ان کایہ بھی کہناہےکہ ’’ صارفین کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے،ہم کام کاج دیکھیں یا سلنڈر کے لئے لائن میںکھڑے رہ کر اسی طرح وقت برباد کرتے رہیں۔‘‘
قطار میںکھڑے محمدافضل محمد مستقیم شیخ نے بتایا کہ’’لمبی لائن دیکھ لیجئے، میں اپنا سیلون بند کرکے صبح ۵؍ بجے سے لائن میں کھڑا ہوں اور تقریباً ۲۵۰؍ لوگوں کے بعد میرا نمبر ہے۔ ۱۸؍مارچ کو لائن لگاکر کسی طرح سلنڈر لے گیا تھا ۔اس کے ۲۵؍دن بعد دوسرے سلنڈر کے لئے بکنگ کرائی اور ایجنسی کی جانب سے اوٹی پی بھی بھیجا گیا کہ سلنڈر ریلیز کردیا گیا ہے مگر ۷؍ گھنٹے قطار میںکھڑے رہنے کےباوجود مایوس لوٹنا پڑا۔ ڈسٹری بیوٹرکی جانب سے کہا گیا کہ اب بعد میں آئیے گا، سلنڈر ختم ہوگیاہے۔ ‘‘
اسی طرح کی پریشانی قطار میںکھڑے دیگر صارفین محمد احسان شیخ اور محمد ابرارشیخ نے بھی بتائی ۔ ان کا کہناہے کہ میسیج توبرابر بھیجاجارہا ہے، اس کے باوجود سلنڈر آخر کہاں جاتا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایجنسیاں صارفین کو دھوکے میں رکھ کربلیک کرتی ہیں اور صارفین کو دوڑاتی رہتی ہیں۔ اس لئے اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین نہ تو طویل قطاروں میںکھڑے رہنےپر مجبور ہوں اور نہ ہی انہیں مایوس لوٹنا پڑے ۔‘‘
بکنگ کے وقت ایجنسی کی جانب سے جھوٹی تسلی
مضحکہ خیزبات یہ ہےکہ سلنڈر کی بکنگ کے وقت ایجنسی کی جانب سے صارفین کو یہ پیغام بھیج کر جھوٹی تسلی دی جاتی ہے کہ دیش میں ایندھن کی خاطرخواہ مقدارموجودہے ۔ شہریوں کومطمئن کیا جاتا ہے کہ انہیںکسی بھی طرح کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایندھن کا سمجھداری سے استعمال کرنا ہمیشہ فائدے مند ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خاطر خواہ مقدار میں ایندھن موجود ہے تو صارفین علی الصباح قطار میں کھڑے رہنے پر مجبور کیوں ہیں؟
سپلائی کرنے والی ایجنسی کے نمبرات بند
گیٹ نمبر ایک پرپریشان حال صارفین کو سدگرو گیس ایجنسی کی جانب سےگیس سلنڈر سپلائی کیا جاتا ہے۔اس ایجنسی کے ذمہ دار کے موبائل نمبر، آفس کے نمبرپر متعدد مرتبہ نمائندۂ انقلاب کے رابطہ قائم کرنے پرنمبر بند ملا۔ لینڈ لائن لائن نمبر پرگھنٹی توبج رہی تھی مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ صارفین کس طرح کی پریشانی سے دوچار ہیں۔