• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکست کے باوجود جوکووچ نے میلبورن کے شائقین کے دل جیت لیے

Updated: February 02, 2026, 7:19 PM IST | Melbourne

ٹینس کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی نوواک جوکووچ کے لیے اتوار کی رات میلبورن پارک میں ایک ایسی یادگار شام ثابت ہوئی جہاں وہ ٹرافی تو نہ جیت سکے، مگر وہ محبت سمیٹنے میں کامیاب رہے جس کی انہیں برسوں سے خواہش تھی۔

Novak And Alcaraz.Photo:INN
جوکووچ اور الکاراز۔ تصویر:آئی این این

ٹینس کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی نوواک جوکووچ کے لیے اتوار کی رات میلبورن  پارک میں ایک ایسی یادگار شام ثابت ہوئی جہاں وہ ٹرافی تو نہ جیت سکے، مگر وہ محبت سمیٹنے میں کامیاب رہے جس کی انہیں برسوں سے خواہش تھی۔ آسٹریلین اوپن ۲۰۲۶ء کے فائنل میں عالمی نمبر ایک کارلوس الکاراز کے ہاتھوں شکست کے بعد۳۸؍سالہ سربین اسٹار جذباتی نظر آئے۔


دنیا کے بہترین نوجوان کھلاڑی۲۲؍ سالہ کارلوس الکاراز نے چار سیٹس کے سخت مقابلے کے بعد جوکووچ کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی شاید جوکووچ کا ۲۵؍ واں گرینڈ سلیم جیتنے کا خواب ادھورا رہ گیا، لیکن راڈ لیور ایرینا میں موجود شائقین کا جوش و خروش ایسا تھا جیسے فاتح الکاراز نہیں بلکہ جوکووچ ہوں۔
پورے اسٹیڈیم میں ’’نولے، نولے‘‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ یہ وہی جوکووچ ہیں جو اپنے طویل کیریئر کے دوران روجر فیڈرر اور رافیل نڈال کے سائے میں رہے اور اکثر شائقین کی بھرپور حمایت سے محروم رہے۔ لیکن اس بار کہانی مختلف تھی۔ یانک  سنر کے خلاف ایک اعصاب شکن سیمی فائنل میں اپنی گرتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر کامیابی حاصل کرنے والے جوکووچ نے ناقدین کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی کوارٹر فائنل: ممبئی کے اسکواڈ کا اعلان، مشیر اور سرفراز خان بھی شامل

رنرز اپ ٹرافی وصول کرتے ہوئے جوکووچ نے روتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے گزشتہ چند میچوں میں مجھے وہ محبت اور مثبت توانائی دی جو میں نے آسٹریلیا میں پہلے کبھی محسوس نہیں کی۔ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ مجھے امید نہیں تھی کہ میں دوبارہ کسی گرینڈ سلیم کی اختتامی تقریب میں کھڑا ہوں گا۔‘‘
اپنے خطاب کے آخر میں جوکووچ نے اشارہ دیا کہ شاید یہ ان کا میلبورن پارک میں آخری میچ ہو۔ انہوں نے کہاکہ ’’خدا بہتر جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا،۱۲؍ ماہ بعد کی بات تو دور کی ہے۔ یہ ایک شاندار سفر رہا۔‘‘  ان کے اس بیان نے ٹینس کی دنیا میں ان کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کی خبروں کو گرم کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:انوراگ کشیپ کی ’’کینیڈی‘‘ اسی ماہ زی فائیو پر ریلیز ہوگی

جوکووچ نے اپنے کیریئر میں سب کچھ جیتا-ریکارڈز، اعزازات اور ٹرافیاں-لیکن وہ عوامی مقبولیت جو فیڈرر اور نڈال کو حاصل تھی، ان سے دور رہی۔ ۲۰۲۲ء میں کورونا ویکسین نہ لگوانے پر آسٹریلیا سے ڈی پورٹ کیے جانے والے جوکووچ کے لیے ۲۰۲۶ء کا یہ فائنل ایک گرینڈ فیئر ویل  کی طرح تھا جہاں انہوں نے بالآخر میلبورن کے عوام کا دل جیت لیا۔اگر یہ ان کا آخری سیزن ہے، تو جوکووچ ایک مطمئن انسان کے طور پر رخصت ہوں گے، کیونکہ انہیں وہ مل گیا جس کی انہیں سب سے زیادہ تلاش تھی: عوام کی بے پناہ محبت۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK