Updated: July 23, 2026, 9:01 PM IST
| New Delhi
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبات اور جاری طلبہ احتجاج کے دوران ان کی بیٹی نیمیشا پردھان نے اپنے انسٹاگرام اور لنکڈ اِن اکاؤنٹس غیر فعال کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے ان کے غیر ملکی تعلیمی پس منظر پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے سوشل میڈیا صفحات اور ان کی سابقہ جامعہ کے صفحات پر بھی تبصرے کیے۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنی بیٹی کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبات اور ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج کے درمیان ان کی بیٹی نیمیشا پردھان نے اپنے انسٹاگرام اور لنکڈ اِن اکاؤنٹس غیر فعال کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید میں اضافہ دیکھا گیا اور متعدد صارفین نے ان کے غیر ملکی تعلیمی پس منظر کو موضوعِ بحث بنایا۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج میں شریک بعض افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ جب دھرمیندر پردھان ملک کے وزیرِ تعلیم ہیں تو ان کی بیٹی نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک کی یونیورسٹی کا انتخاب کیوں کیا۔ نیمیشا پردھان نے امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول سے ایل ایل ایم (LLM) کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اسی معاملے کو بنیاد بنا کر ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بڑی تعداد میں تبصرے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی غنڈے بھیج رہی ہے: سی جے پی نے مودی کا بیان مسترد کردیا
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر صرف نیمیشا پردھان کے ذاتی اکاؤنٹس ہی نہیں بلکہ ان کی سابقہ جامعہ کے سوشل میڈیا صفحات پر بھی تبصرے کیے گئے، جہاں بعض صارفین نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا اور ان کی بیرونِ ملک تعلیم پر سوالات اٹھائے۔بعد ازاں نیمیشا پردھان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ دستیاب نہیں رہا، جبکہ ان کا لنکڈ اِن پروفائل بھی غیر فعال یا حذف دکھائی دینے لگا۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے کی کوئی عوامی وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے ان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی انسان دوستی کی علامت بن گئے
ادھر دھرمیندر پردھان نے جاری احتجاج پر اپنے ردِعمل میں اپوزیشن، خصوصاً راہل گاندھی پر طلبہ کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امتحانی بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ میں بات کرنے اور نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے لیے تیار ہے۔