نیہابورا کی ٹیم، یوتھ کانگریس ، ’آپ‘ مظاہرین اور ’سٹیزن مارچ ‘کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے میں دانتوں تلے پسینہ آگیا، پولیس پر خاتون مظاہرین اور صحافیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنےکا الزام،برہمی میں اضافہ۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 8:50 AM IST | Fazil Ahmed/Agency | New Delhi
نیہابورا کی ٹیم، یوتھ کانگریس ، ’آپ‘ مظاہرین اور ’سٹیزن مارچ ‘کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے میں دانتوں تلے پسینہ آگیا، پولیس پر خاتون مظاہرین اور صحافیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنےکا الزام،برہمی میں اضافہ۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی من مانیوں ، ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے خلاف آوازدبانا اور احتجاجی مظاہروں کو روکنا دہلی پولیس کیلئے اب ناممکن ہوتا جارہاہے۔ نیہابورا کی قیادت میں آئیسا نے، این ایس یو آئی (کانگریس کی طلبہ تنظیم) کو ساتھ لے کر انڈین یوتھ کانگریس نے، عام آدمی پارٹی کے کارکنوں اور ’سٹیزن مارچ‘ کے تحت نکلنےوالے عام شہریوں کو اتوار کو جنتر منتر تک پہنچنے سے روکنے میں دہلی پولیس کو دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ اس دوران پولیس نے جو جابرانہ طرز عمل اختیار کیا اور خاتون مظاہرین اور صحافیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ روا رکھا، اس نے اسے پورے ملک اور عالمی سطح پر شرمسار کردیا ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ دہلی پولیس کی یہ حرکتیں جس طرح سوشل میڈیا کے توسط سے ملک بھر میں پھیل رہی ہیں، اس کی وجہ سے مظاہروں کو ویسی ہی تقویت حاصل ہوسکتی ہے جیسی تقویت ۲۰؍ جولائی کے لاٹھی چارج کے بعد دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی تحریک کو حاصل ہوئی تھی۔
اتوار کو دہلی میں گیانیش کمار کے استعفیٰ کیلئے مظاہرہ کا لگاتار تیسرا دن تھا۔ ایک طرف جہاں پولیس تھکی ہوئی نظر آرہی تھی وہیں مظاہرین پہلے سے زیادہ تر وتازہ اور پُرزور نظر آئے۔ اتوار کو ایک طرف جہاں کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کو ساتھ لے کر یوتھ کانگریس نے انڈیا گیٹ سے جنتر منتر مارچ کیا وہیں ’’سٹیزن مارچ‘ کے بینر تلے عام شہریوں نے بھی مارچ کیا جبکہ نیہا بورا کی قیادت میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کے کارکنان نے اشوکا روڈ پر واقع آندھرا بھون سرکل سے جنتر منتر کی جانب مارچ کیا۔ عام آدمی پارٹی نے بھی انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا اور کئی مقامات پر بیریکیڈ لگا کر مارچ کو روکنے کی کوشش کی۔ آئیسا کے کارکنان جب آندھرا بھون سرکل سے جنتر منتر کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے انہیں بیریکیڈ کے ذریعے روک دیا۔
خاتون صحافیوں اور مظاہرین کے ساتھ زیادتی، رات بھر احتجاج، بالآخر جانچ کا حکم
دہلی پولیس پر الزام عائد ہوا ہے کہ جنتر منتر پر خاتون مظاہرین اور احتجاج کی خبر نگاری کرنےوالی خاتون صحافیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا رویہ اور نامناسب سلوک کیاگیا۔ اس ویڈیو بھی منظر عام پر آیا ہے جس کے بعد سنیچر کو دیر تک صحافیوں، وکلا اور دیگر افراد نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور خاطی پولیس افسر کے خلاف ایف آئی اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے ۳؍خاتون صحافیوں کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جنہیں غیر جانب دارانہ تحقیقات کیلئےکرائم برانچ، کمال مارکیٹ منتقل کردیا گیا ہے۔خاتون صحافی کا الزام ہے کہ ایک اے سی پی نے ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا اور غلط طریقے سے چھوا نیز دھکا دیا۔ صحافی کا کہنا ہے کہ وہ شکایت درج کرانے کیلئے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پہنچیں، لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اس ضمن میں کئی ویڈیوز گشت کررہے ہیں جن میں مرد پولیس اہلکار خاتون مظاہرین کو حراست میں لے رہے ہیں۔ایک ویڈیو خاتون صحافی کے ساتھ بدسلوکی کا بھی سامنے آیا ہے۔
بدھ، ۷؍ اکتوبر کو اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج
انڈیا اتحاد میں شامل پارٹوں کی دہلی اکائیاں بدھ ۷؍ اکتوبر دہلی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر مشترکہ احتجاج کریں گی۔ اس دوران ایس آئی آر کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ہلی کانگریس نے اتواراس کی اطلاع دی اور بتایا کہ یہ فیصلہ کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم ، آر جے ڈی اور دیگر کی مشترکہ میٹنگ میں کیاگیا۔ اس سے قبل منگل کو اپوزیشن ایم پی الیکشن کمیشن کے صدردفتر تک مارچ کریں گے۔