Updated: October 01, 2026, 8:02 PM IST
| Tel Aviv
دستاویزی فلم’’ دی بی بی فائلز‘‘ کی ہدایتکار نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو جو کچھ بھی کرتا ہے جیل سے بچنے کے لیے کرتا ہے،یہ فلم نیتن یاہو، ان کے خاندان اور ساتھیوں سے پولیس کی لیک شدہ پوچھ گچھ پر مبنی ہے تاکہ اسرائیلی لیڈرکے خلاف بدعنوانی کے الزامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
دستاویزی فلم دی بی بی فائلز کی ہدایتکار الیکسس بلوم۔ تصویر: ایکس
دستاویزی فلم دی بی بی فائلز کی ہدایتکار الیکسس بلوم کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ہر سیاسی اقدام ان کے جاری بدعنوانی کے مقدمے اور جیل سے بچنے کی خواہش سے تشکیل پاتا ہے ۔بلوم نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ میں فلم کی اسکریننگ سے قبل انادولو کو بتایا کہ ’’دستاویزی فلم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ شخص جو اسرائیل کو سمندر کی تہہ میں لے جا رہا ہے، اس پر ایک بہت سنگین قانونی مقدمہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’یہ تقریباً اس کی پیٹھ پر بندر کی طرح ہے، اور لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ جیل سے باہر رہنے کے لیے متحرک ہے، اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اسی پر واپس آتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ نیتن یاہو پر۲۰۱۹ء میں تین الگ الگ مقدمات میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ان کا مقدمہ، جو۲۰۲۰ء میں شروع ہوا تھا، ابھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرسٹا پائیک کو سزائے موت: ۲۰۰؍سال بعد ٹینیسی میں کسی خاتون کو پھانسی ہوگی
بعد ازاں بلوم نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ناظرین روزانہ کی خبروں کے تیزی سے بدلتے ہوئے چکر سے آگے دیکھیں اور نیتن یاہو کی قانونی پریشانیوں کو ان کے سیاسی فیصلوں کے وسیع تر تناظر کے حصے کے طور پر دیکھیں۔دراصل دی بی بی فائلز نیتن یاہو، ان کی اہلیہ سارہ، ان کے بیٹے یائر اور ان کے سیاسی و ذاتی حلقوں کے لوگوں سے پولیس کی پوچھ گچھ کی لیک شدہ فوٹیج پر مبنی ہے۔جبکہ پروڈیوسر الیکس گبنی کو ہدایتکاری کے لیے بلوم سے رابطہ کرنے سے پہلے۱۰۰۰؍ گھنٹے سے زیادہ کی لیک شدہ پوچھ گچھ کا مواد ملا تھا۔
فلم کو خود ناظرین تک پہنچنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کی اسکریننگ سے ایک دن پہلے، نیتن یاہو کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے اسرائیلی عدالت سے پوچھ گچھ کی فوٹیج کی اشاعت کو روکنے کے لیے حکم امتناعی کی درخواست کی۔ عدالت نے درخواست مسترد کر دی اور اسکریننگ آگے بڑھی۔مزید برآں فلم کو پرائیویسی قوانین کی وجہ سے اسرائیل میں بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ اسے بین الاقوامی سطح پر تقسیم اور اسکرین کیا گیا ہے۔تاہم بلوم نے کہا کہ مشکلات اسرائیل سے باہر، خاص طور پر امریکہ میں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’امریکہ میں اس فلم کو ریلیز کرنا بہت مشکل تھا، اور کچھ اخبارات نے تو اس کا جائزہ بھی نہیں لینا چاہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: غزہ پر بنائی گئی فلم ”نازا“ کے پریمیئر کے خلاف مظاہرے، ہدایتکاروں کو جان سےمارنے کی دھمکیاں
فلم کو بین الاقوامی سطح پر تنقیدی پذیرائی ملی ہے۔ روٹن ٹماٹوز پر اس کا کریٹکس اسکور۹۵؍ فیصد ہے۔
اطالوی ڈسٹری بیوٹر جولیا انوسینزی نے انادولو کو بتایا کہ لوگ اسرائیل میں کیا ہو رہا ہے یہ دیکھنا چاہتے ہیں اور نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کیا ہیں یہ جاننا چاہتے ہیں۔