• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: غزہ پر بنائی گئی فلم ”نازا“ کے پریمیئر کے خلاف مظاہرے، ہدایتکاروں کو جان سےمارنے کی دھمکیاں

Updated: September 29, 2026, 10:14 PM IST | New York

وینس فلم فیسٹیول میں ”نازا“ نے اپنے پہلے پریمیئر کے بعد ۲۵ منٹ تک شرکاء نے کھڑے ہو کر داد دی اور فلم نے اسپیشل جیوری پرائز حاصل کیا۔ اس کے بعد سے فلم کے ہدایت کاروں ابراہم اور سزور کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور کچھ اسرائیلیوں کی جانب سے ان کا ”پیچھا کرنے“ اور ”شکار کرنے“ کے مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دونوں کو شہریت سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور فلم کا موازنہ اسرائیل پر ”درجنوں بیلسٹک میزائل داغنے“ سے کیا ہے۔

Photo: X
نیویارک میں ”نازا“ کے پریمیئر کے خلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

غزہ پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ No Other Land کے آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کاروں یوول ابراہم اور راچیل سزور کی ہدایت کاری میں بننے والی دستاویزی فلم ”نازا“ (NAZA) کا نیویارک فلم فیسٹیول میں ۲۶ ستمبر کو سخت حفاظتی انتظامات اور مظاہروں کے درمیان پریمیئر ہوا۔ اس فلم میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے ۲۴ گمنام سابق افسران کے انٹرویوز شامل ہیں، جنہوں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہزاروں عام شہریوں کو کیسے اور کیوں ہلاک کیا۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور

نیویارک کے لنکن سینٹر کے ایلس ٹولی ہال میں جاری فلم کی اسکریننگ کے دوران، اسرائیلی-امریکی کونسل کی جانب سے منگوائے گئے موبائل ”مووی تھیٹرز“ براڈوے کے ساتھ قطار میں کھڑے کر دیئے گئے تھے جن پر اسرائیل کے حق میں پیغامات دکھائے جا رہے تھے، جبکہ اس گروپ نے سڑک کے دوسری جانب ایک ریلی بھی نکالی۔ پنڈال کے اندر حفاظتی انتظامات میں میٹل ڈٹیکٹرز، بیگز کی تلاشی اور بم سونگھنے والے کتے شامل تھے۔ ۱۰۸۶ نشستوں والی اس اسکریننگ کے تمام ٹکٹ فوری طور پر فروخت ہوگئے اور ایک گھنٹہ پہلے ہی ناظرین کی قطار بننا شروع ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے

واضح رہے کہ وینس فلم فیسٹیول میں ”نازا“ نے اپنے پہلے پریمیئر کے بعد ۲۵ منٹ تک شرکاء نے کھڑے ہو کر داد دی اور فلم نے اسپیشل جیوری پرائز حاصل کیا۔ اس کے بعد سے فلم کے ہدایت کاروں ابراہم اور سزور کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور کچھ اسرائیلیوں کی جانب سے ان کا ”پیچھا کرنے“ اور ”شکار کرنے“ کے مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دونوں کو شہریت سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور فلم کا موازنہ اسرائیل پر ”درجنوں بیلسٹک میزائل داغنے“ سے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی جاری۔ مسجداقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، تلمودی رسومات اداکیں

ابراہم کا کہنا ہے کہ فلم کے بہت سے انکشافات ان کی سابقہ ۱۱ سے زیادہ تحقیقاتی رپورٹس پر مبنی ہیں، ان میں وہ رپورٹنگ بھی شامل ہے جس کی تصدیق پہلے دی واشنگٹن پوسٹ اور دی نیویارک ٹائمز نے کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان ۲۴ ذرائع کی شناخت کی تصدیق دی گارڈین کے ایڈیٹرز نے کی ہے، جو اس دستاویزی فلم کے شریک پروڈیوسر ہیں اور ان کے پاس اس کا خام مواد (raw material) موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیربیزالیل اسموتریچ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں غزہ جیسی جنگ کا مطالبہ

”نازا“ بنیادی طور پر اسرائیل کے ایلیٹ انٹیلیجنس یونٹ ۸۲۰۰ پر مرکوز ہے۔ فلم میں اسرائیلی فوج کے مبینہ ٹارگٹنگ پروٹوکولز کی دستاویز بندی کی گئی ہے، مثلاً ”?Where`s Daddy“ کہلانے والا طریقہ کار۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں ان الزامات کو ”دو ٹوک انداز میں مسترد“ کیا ہے۔ ”نازا“ کی اسرائیل میں تقسیم کاری کا فی الحال کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلم کو ستمبر کے اواخر سے ۵۰ سے زیادہ علاقوں میں ریلیز کیا جائے گا۔ برطانوی میڈیا ہاؤس ’دی گارڈین‘ نومبر کے آخر سے اسے مفت آن لائن نشر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK