ریاست کے اپوزیشن لیڈروں کی مرکزی بجٹ پرسخت تنقیدیں، کہا : روپے کی گرتی قدر کونظرانداز کیا گیا ہے۔انکم ٹیکس ادا کرنے والے ملازمت پیشہ افراد اور متوسط طبقہ کو راحت نہیں دی گئی ہے۔
انڈین مرچنٹ چیمبرس کےعہدیداران مرکزی بجٹ دیکھتے ہوئے۔ تصویر: شاداب خان
مرکزی بجٹ کو تمام طبقات کیلئے مایوس کن بتاتے ہوئے ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے سخت تنقید یں کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جو بجٹ پیش کیاگیا ہے ،وہ پچھلے بجٹ سے مختلف نہیں ہے۔ بجٹ میں زراعت، متوسط، چھوٹی اور مائیکرو صنعتوں، کسانوں کیلئے کچھ نہیں ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ صرف بڑے بڑے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں جبکہ جو وعدے کئے گئے ہیں، وہ کھوکھلے ہیں۔
’’قرض کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے‘‘
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نےکہا کہ ’’جہاں ملک میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ٹھوس پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، وہیں اس بجٹ میں روزگار کی فراہمی کیلئے کوئی واضح سمت نہیں ہے۔ کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والے ملازم پیشہ افراد اور متوسط طبقے کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے۔ ترقی کی شرح کے اعلان کردہ اہداف کو حاصل کرنا ناممکن ہے اور مرکزی حکومت کا یہ بجٹ صرف نعرے بازی تک محدود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی کی جن شرحوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان کا حاصل ہونا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بجٹ صرف اعلانات اور وعدوں تک محدود ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد چھوٹے، متوسط کارخانے دار اور صنعتکار شدید بحران کا شکار ہیں مگر اس بجٹ میں بھی ان شعبوں کو سنبھالنے کیلئے کوئی عملی سہارا فراہم نہیں کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ روزگار اسی شعبے سے پیدا ہوتا ہے، اس کے باوجود حکومت نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲؍ گریجویٹ نوجوانوں میں سے ایک بے روزگار ہے جو حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ملک پر قرض کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے، قرض لے کر اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں مگر عام لوگوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ آج ملک میں سنگین عدم مساوات کو دور کرنے کے بارے میں بجٹ میں ایک لفظ بھی شامل نہیں ہے، جو اس بجٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔
’’یہ صرف کھوکھلے دعوے ہیں ‘‘
ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے مرکزی بجٹ کو ’کھوکھلے دعوے ‘قرار دیا۔ سوشل میڈیا پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے اس بجٹ کوصرف امیروں کا بجٹ قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ بجٹ میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کمیونٹیزکیلئے کوئی ٹھوس پالیسی کا ذکر نہیں ہے۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے صرف الفاظ سے کھیلا ہے۔ اس کے علاوہ متوسط طبقے کو ٹیکس میں ریلیف کی امید تھی لیکن انہیں کوئی راحت نہیں ملی۔ بجٹ میں مہنگائی سے نجات کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔پرکاش امبیڈکر کےبقول حکومت نے جان بوجھ کر روپے کی گرتی ہوئی قدر اور سرمایہ کی آمد میں کمی جیسے سنگین معاشی مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس بجٹ میں مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور کرناٹک جیسی غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو نظر انداز کیا ہے۔
’’نجی کمپنیو ں سے ملازمین کونکالنے کے معاملہ پر بجٹ خاموش‘‘
شیو سینا(ادھو ٹھاکرے) کے رکن پارلیمان اروند ساونت نے کہاکہ حکومت روزگار کے مواقع میں اضافہ کا اعلان کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی کمپنیوں سے ملازمین کو نکالا جارہا ہے اور روزگار ختم ہو رہا ہے۔ حکومت نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے روزگا ر میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ۶؍ماہ میں انفوسس ، وِپرو یا ٹی سی ایس کمپنی ہوں یا امیزون کمپنی، ان سبھی کمپنیوں میں اپنے ملازمین کم کئے ہیں،حکومت یہ تو بتائے کہ کہاں روزگار بڑھایاگیا ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ پہلے ریلوے کا علاحدہ بجٹ ہوا کرتا تھا لیکن اسے مرکزی حکومت نے مین بجٹ میں ضم کر دیا اور ریلوے کے تعلق سے بجٹ خاموش ہے۔وزیر اعظم نے ۲۰۲۲ء تک ہندوستان کے ہر غریب خاندان کو پکا مکان دینے کا اعلان کیا تھا ، اب تک کتنوں کو مکانات دیئے گئے ہیں؟ سرکاری زمین پر آبادی افرادکی باز آباد کاری کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا گیا ہے۔ اس طرح یہ بجٹ مایوس کن ہے اور محض بجٹ پیش کرنے کی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔‘‘
’’اقلیتو ں کیلئے مایوس کن بجٹ ‘‘
سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے مرکزی بجٹ پر کہا کہ ’’ ہر سال اقلیتی طبقوں کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہ کچھ بجٹ دیا جاتا تھا لیکن اس بجٹ میں اقلیتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ان کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’جو بجٹ پیش کیاگیا ہے ،وہ کارپوریٹ انڈیا کیلئے ہیں۔بجٹ میں مہنگائی اور متوسط طبقہ جو پریشان ہیں ، انہیں بجٹ میں کوئی راحت نہیں دی گئی ہے۔اسکل کا اعلان کیاجارہا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ تعلیم مہنگی ہوتی جارہی ہے۔اس پر حکومت خاموش ہے۔ پوری دنیا ہندوستان کی جانب دیکھ رہی ہے لیکن اس پر قابو پانے کیلئے حکومت اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ آج مہاراشٹر میں محکمہ صحت اور تعلیم کا برا حال ہے، اس پر کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ممبئی کے الیکشن ہونے کےبعد مرکز کی توجہ اب بنگال پر ہے۔