• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹینڈنگ کمیٹی میں اونچے جھوپڑوں پر کارروائی کےمعاملے پر بحث

Updated: September 25, 2026, 10:56 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیرکارروائی کا اعلان کرنے پر ہائوس لیڈران برہم۔ جھوپڑے ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں اس لئے چھوٹے جھوپڑے بھی متاثر ہونے کا خدشہ۔

There is resentment over the BMC`s announcement regarding action against huts taller than 14 feet. Photo: INN
۱۴؍ فٹ سے اونچے جھوپڑوں پر کارروائی کے بی ایم سی کے اعلان پرناراضگی پائی جارہی ہے۔ تصویر: آئی این این

۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچے جھوپڑوںکو توڑنے کی کارروائی کے اعلان پر بدھ کی شام میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بحث ہوئی جو یہ بے نتیجہ رہی اور کمیٹی کے چیئر مین نے بی ایم سی افسران کو اس تعلق سے تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس دوران اپوزیشن لیڈروں نے برسر اقتدار پارٹیوںکے کارپوریٹروں اور چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے بڑے فیصلے سے کیسے لاعلم ہوسکتے ہیں کیا میونسپل افسران کی نظر میں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے؟ 

واضح رہے کہ ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے بھی اونچے جھوپڑوں کو منہدم کرنے کے بی ایم سی کے فیصلے سے لاعلمی ظاہر کرچکی ہیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں برسراقتدار پارٹیوں کے ہائوس لیڈر اور بی جے پی کارپوریٹر گنیش کھنکر نے میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے کو خط لکھ کر اس فیصلے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے، اس کے باوجود خبر لکھے جانے تک اس تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ بی ایم سی ہائوس جس میں عموماً ممبئی کے تمام کارپوریٹر موجود ہوتے ہیں، کو اتنے بڑے فیصلے سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا اور ان کی رائے کیوں طلب نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:میونسپل کمشنر ابھینو’کے ڈی ایم سی‘ کے مسائل حل کرنے میں ناکام

بحث کے دوران کارپوریٹروں نےشہری  انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کِن بنیادوں پر ان جھوپڑوں کوکارروائی کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

اسٹینڈنگ کمیٹی میں کانگریس کے ہائوس لیڈر اشرف اعظمی نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیونکر ہوا کہ ہائوس لیڈروں کو بھی اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور بی ایم سی   نے اپنے طور پر فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی کا کہنا ہے کہ ۳۹؍ ہزار جھوپڑے ایسے ہیں جن پر کارروائی کی جائے گی لیکن جھوپڑوں کا معاملہ مختلف ہے۔ عام طور پر جھوپڑے ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں یعنی اگر کسی ۱۴؍ فٹ اونچے جھوپڑے پر کارروائی کی جائے گی اور اس کے بازو میں ۱۴؍ فٹ سے کم اونچا جھوپڑا ہوگا تو وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تو بی ایم سی ان کے ساتھ کیسے انصاف کرے گی؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جھوپڑا واسی اس اعلان سے ڈرے ہوئے ہیں۔

این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر سعیدہ خان نے کہا کہ ’’یہ بی ایم سی کا’ تغلقی‘ فرمان ہے، نہ کسی سے صلاح و مشورہ لیا گیا اور نہ ہی کسی کو اطلاع دی گئی سیدھے کارروائی کا اعلان کردیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی ایم سی کو اس طرح کے فیصلے سے قبل کم از کم جغرافیائی مطالعہ کرنا چاہئے تھا۔ کرلا میں فضائیہ کا ’فنّل زون‘ ہے اور یہاں سی آر زیڈ بھی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ان جھوپڑا واسیوں کی ’ٹائون شپ پلاننگ‘ کے تحت بازآباد کاری کی جائے جہاں تمام سہولیات دستیاب ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: میئر کے بی جے پی کا انتخابی نشان لگانے پرسیاسی تنازع

’’کن بنیادوں پر کارروائی ؟‘‘
  شیو سینا (یوبی ٹی )کے کارپوریٹر یشودھر فنسے نے میٹنگ میں ’پوائنٹ آف آرڈر‘ لے کر گائوٹھن میں رہنے والے افراد کی رہائش گاہوں کی بنیاد پر ۱۴؍ فٹ اونچے جھوپڑوں پر انہدامی کارروائی کے اعلان کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچے جھوپڑوں میں رہتے ہیں، وہ سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی دہائیوں سے ان میں آباد ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی ’ایسٹ انڈین‘ برادری (مراٹھی بولنے والے رومن عیسائی) ممبئی میں جہاں آباد ہیں انہیں ’گائوٹھن‘ کہا جاتا ہے اور ان کے یہاں بھی کئی مکانات ۱۴؍ فٹ اونچے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کن بنیادوں پر کن جھوپڑوں کو انہدامی کارروائی کیلئے منتخب کیا گیا ہے اور کیا کئی دہائیوں سے ان میں رہنے والوں کو اچانک بے گھر کردینا ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK