Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجازت منسوخ ہونے کے باوجود جے این یو میں عمر خالد کی کتاب پر مباحثہ

Updated: August 11, 2026, 10:06 AM IST | Fazil Ahmed | New Delhi

سیکڑوں طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی ، اے بی وی پی پر پروگرام میں خلل ڈالنے، مقررین سے بدسلوکی اور مائیک چھیننے کی کوشش کا الزام۔

This is how a discussion was held on Omar Khalid`s book in JNU. Picture: INN
جے این یو میں عمر خالد کی کتاب پر اس طرح مباحثہ کا انعقاد کیاگیا۔ تصویر: آئی این این

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)  میں عمر خالد کی کتاب ’فریکچرڈ کمیونٹیز: آدیواسی ہسٹریز اینڈ دی پولیٹکس آف پاور‘  پر مباحثہ کی اجازت منسوخ ہونے کے باوجود طلبہ یونین نے پیر کو مباحثہ کا انعقاد کیا ۔ چونکہ انتظامیہ نے بک کئے گئے آڈیٹوریم کی اجازت منسوخ کردی تھی اس لئے طلبہ یونین نے یونیورسٹی میں کھلے میدان میں مباحثہ کا انعقاد کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ کتاب عمر خالد کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو انہوں نے جے این یو سے ہی کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ بیان دینے کوتیار، کانگریس کی ۳؍ شرطیں

  جے این یو طلبہ یونین کی صدر ادیتی نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے اجازت منسوخ کئےجانے اور اے بی وی پی کی جانب سے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششوں کے باوجود سیکڑوں طلبہ نے مذاکرے میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی بڑی  تعداد کی موجودگی نے واضح کردیا کہ جے این یو میں بحث، مباحثے، سوال کرنے اور اختلافِ رائے کی جمہوری روایت کو دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔طلبہ یونین نے الزام عائد کیا کہ پروگرام کے دوران اے بی وی پی سے وابستہ کارکنوں نے  خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ یونین  کا دعویٰ ہے کہ اس دوران مقرر سے مائیک چھیننے کی کوشش بھی  کی گئی اور پینل میں شامل مقررین کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ قابل اعتراض الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا۔ یونین کے مطابق مبینہ رکاوٹوں کے باوجود طلبہ اور مقررین نے پروگرام جاری رکھا اور مذاکرہ مکمل کیا۔آدیتی نے آخری وقت میں پروگرام کی اجازت منسوخ کیے جانے پر انتظامیہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کتاب پر علمی گفتگو کو انتظامی فیصلوں یا دباؤ کے ذریعے روکا نہیں جاسکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK