تفریحی شعبے کی بڑی کمپنی والٹ ڈزنی آنے والے ہفتوں میں تقریباًایک ہزار ملازمین کو نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اس چھٹنی کا سب سے زیادہ اثر کمپنی کے مارکیٹنگ ڈویژن پر پڑنے کا امکان ہے۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 3:02 PM IST | New York
تفریحی شعبے کی بڑی کمپنی والٹ ڈزنی آنے والے ہفتوں میں تقریباًایک ہزار ملازمین کو نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اس چھٹنی کا سب سے زیادہ اثر کمپنی کے مارکیٹنگ ڈویژن پر پڑنے کا امکان ہے۔
تفریحی شعبے کی بڑی کمپنی والٹ ڈزنی آنے والے ہفتوں میں تقریباًایک ہزار ملازمین کو نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اس چھٹنی کا سب سے زیادہ اثر کمپنی کے مارکیٹنگ ڈویژن پر پڑنے کا امکان ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملازمتوں میں تخفیف کی منصوبہ بندی مارچ میں جوش ڈی امارو کے کمپنی کے نئے سی ای او بننے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اندازہ ہے کہ اس چھٹنی سے کمپنی کے کل ملازمین میں سے ایک فیصد سے بھی کم افراد متاثر ہوں گے۔ مالی سال ۲۰۲۵ء کے اختتام تک ڈزنی میں تقریباً۳۱ء۲؍ لاکھ ملازمین تھے۔
یہ بھی پڑھئے:کمفرٹ اور شخصیت ہی میرے لئے فیشن ہے:سحر بمبا
ڈزنی کے نئے چیف مارکیٹنگ آفیسر اسعد ایاز بھی ’پروجیکٹ امیجن‘ نامی پروگرام کے تحت کمپنی کے مارکیٹنگ آپریشنز کو یکجا کرنے اور لاگت کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنوری سے کمپنی کے نئے مارکیٹنگ اسٹرکچر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ دوسری جانب، کلاؤڈ ٹیک کمپنی اوریکل نے بھی عالمی سطح پر بڑی تعداد میں ملازمین کی چھٹنی کی ہے۔ کئی ملازمین نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں صبح سویرے ای میل کے ذریعے ملازمت سے نکالے جانے کی اطلاع دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:کمفرٹ اور شخصیت ہی میرے لئے فیشن ہے:سحر بمبا
رپورٹس کے مطابق اوریکل تقریباً۲۰؍ہزار سے ۳۰؍ ہزارملازمین کو نکال سکتی ہے، جو اس کی کل ورک فورس کا تقریباً ۱۸؍ فیصد ہے۔وہیں، عالمی بینک ایچ ایس بی سی بھی آنے والے برسوں میں چھٹنی پر غور کر رہا ہے۔ کمپنی کے سی ای او جارجس الحیدری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خاص طور پر بیک آفس اور مڈل آفس سے جڑے نان کلائنٹ فیسنگ عہدوں پر اس کا زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس پر ابھی ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔۲۰۲۵ء کے اختتام تک ایچ ایس بی سی میں تقریباً ۱۰ء۲؍لاکھ ملازمین تھے۔