بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی )کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ تمیم اقبال نے ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے فوری آغاز کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلبوں سے جلد مشاورت کر کے ٹورنامنٹ کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 3:58 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی )کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ تمیم اقبال نے ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے فوری آغاز کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلبوں سے جلد مشاورت کر کے ٹورنامنٹ کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی )کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ تمیم اقبال نے ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے فوری آغاز کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلبوں سے جلد مشاورت کر کے ٹورنامنٹ کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔اسپورٹس ویب سائٹ کے مطابق تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کلبوں کے درمیان ۷؍ماہ سے جاری تعطل کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ گراؤنڈز کی کمی دور کرنے کے لئے نجی میدان بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تمیم اقبال نے فرسٹ کلاس کرکٹرز کی تنخواہوں اور میچ فیس میں نمایاں اضافے کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت ماہانہ معاوضے اور فی میچ فیس میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جبکہ خواتین کرکٹرز کی ادائیگیوں میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔ تمیم اقبال نے کہا کہ ماضی میں خواتین کرکٹرز کو انتہائی کم معاوضہ دیا جاتا تھا، جو ناقابل قبول تھا، تاہم اب اس نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کس اداکارہ کے کہنے پرمیتھیلاکو اکشے کمار کی فلم’’بھوت بنگلہ ‘‘ میں کام ملا؟
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی انتظامیہ کے اقدامات سے تعطل ختم ہوگا اور ملک کا اہم ڈومیسٹک ٹورنامنٹ جلد بحال ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ لیگ کے آغاز کے لئے کلب نمائندوں سے فوری ملاقاتیں کی جائیں گی اور کھلاڑیوں کے ٹرانسفر ونڈو کے اعلان کے بعد ٹورنامنٹ کو جلد میدان میں لایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے شیڈول میں بھی ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے، جو۱۷؍ اپریل سے شروع ہونا ہےجبکہ یہ فیصلہ حکومتی ہدایات کے مطابق بجلی کے استعمال میں بچت کے پیش نظر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:پی ایف ایل شکاگو: واحد عرب فائٹر عمر الدفراوی کی نظریں بڑی جیت پر مرکوز
اجلاس کے بعد نئی کمیٹیوں کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کر دی گئی ہیں، تاہم کرکٹ آپریشنز کے شعبے میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ تین ماہ میں شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔