Updated: April 09, 2026, 3:16 PM IST
|
Agency
| New Delhi
مقابلے سے پہلے الدفراوی نے کہا ’’میں شکاگو صرف شرکت کیلئے نہیں بلکہ اپنی شخصیت کا ایک نیا ورژن دکھانےکیلئے جا رہا ہوں۔‘‘
عمر الدفراوی۔ تصویر:آئی این این
مصر کے نامور مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے ) فائٹر عمر الدفراوی۱۱؍ اپریل کو شکاگو کے ون ٹرسٹ ایرینا میں ہونے والے پی ایف ایل مقابلے میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس بڑے ایونٹ میں حصہ لینے والے واحد عرب فائٹر ہیں، جہاں ان کا مقابلہ ٹونگا کے جیمز ویک سے ہوگا۔عمر الدفراوی کی کہانی ہمت اور مسلسل جدوجہد کی مثال ہے۔۲۰۲۲ء میں مسلسل ناکامیوں اور تنقید کے بعد ان کا اعتماد ٹوٹ چکا تھا، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔
مصر سے تھائی لینڈ اور پھر بالی منتقل ہو کر انہوں نے اپنی ٹریننگ پر توجہ دی اور ۵؍ فتوحات کی مسلسل لڑی کے ساتھ پی ایف ایل مینا ویلٹر ویٹ خطاب اپنے نام کیا۔شکاگو میں ہونے والے اس مقابلے کو الدفراوی محض ایک فائٹ نہیں بلکہ اپنے کیریئر کا نیا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا’’میں شکاگو ایک الگ ذہنیت، زیادہ پختگی اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جا رہا ہوں ۔ میں وہاں صرف شرکت کیلئے نہیں بلکہ اپنی شخصیت کا ایک نیا ورژن دکھانے جا رہا ہوں۔‘‘اس کارڈ پر واحد عرب فائٹر ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ان کیلئے ایک اعزاز بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عرب فائٹرز میں وہ ٹیلنٹ اور دل گردہ موجود ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کسی کا بھی مقابلہ کر سکیں۔
الدفراوی اور جیمز ویک ماضی میں تھائی لینڈ میں ایک ساتھ ٹریننگ کر چکے ہیں۔ الدفراوی کا ماننا ہے کہ اگرچہ وہ ویک کے اسٹائل سے واقف ہیں لیکن رنگ کے اندر کی صورتحال بالکل مختلف ہوگی۔ الدفراوی اپنی باکسنگ اور ٹائمنگ کیلئے مشہور ہیں، ان کی۱۴؍ فتوحات میں سے۸؍ ناک آؤٹ کے ذریعے ہیں۔ دوسری جانب، جیمز ویک(۱-۷)اپنی اسٹرائیکنگ اور گراپلنگ کے لیے جانے جاتے ہیں۔عمر الدفراوی کا مقصد واضح ہے، وہ اس جیت کے ذریعے پی ایف ایل مینا بیلٹ کیلئے اپنے دعوے کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ فوجی سروس کے دوران ماہانہ محض۲۰؍ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے الدفراوی اب عالمی سطح پر کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں۔شکاگو کا یہ مقابلہ نہ صرف الدفراوی کیلئے بلکہ مشرق وسطیٰ کے ایم ایم اے کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔