ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ میں خلل برقرار رہا تو ایشیا کے متعدد ممالک میں آنے والے ہفتوں کے دوران پیٹرول، فضائی سفر اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ میں خلل برقرار رہا تو ایشیا کے متعدد ممالک میں آنے والے ہفتوں کے دوران پیٹرول، فضائی سفر اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ میں خلل برقرار رہا تو ایشیا کے متعدد ممالک میں آنے والے ہفتوں کے دوران پیٹرول، فضائی سفر اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مائیکل اسمتھ کو دو سال کے لیے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا
باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل، کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ آنے سے تیل بردار جہازوں کو طویل متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے ایندھن، انشورنس اور شپنگ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کا پہلا اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے جبکہ کچھ عرصے بعد فضائی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کی وجہ سے ہوائی کرایوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح درآمدی غذائی اشیا اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔
ایشیا اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ چین، ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے درآمد ہونے والے خام تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو درآمدی لاگت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جعفر جیکسن ول اسمتھ کے ساتھ ایکشن تھرلر ’سپر میکس‘ میں نظرآئیں گے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحری راستے جلد بحال نہ ہوئے تو عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھے گا، جس سے نہ صرف ایندھن بلکہ روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی۔ تاہم اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے اور جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت بحال ہو جاتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ بھی بتدریج کم ہو سکتا ہے۔