• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ نسل کشی پر بنی دستاویزی فلم NAZA کو ناقدین سے ۱۰۰؍  فیصد ریٹنگ

Updated: October 09, 2026, 10:04 PM IST | New York

Photo: INN
تصویر: آئی این این

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تحقیقاتی دستاویزی فلم ’NAZA‘ نے فلمی ناقدین کی ویب سائٹ روٹن ٹومیٹوز پر ۱۰۰؍ فیصد ٹومیٹومیٹر اسکور حاصل کرکے توجہ حاصل کرلی ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے اعلان میں فلم کو ۴۴؍  جائزوں کی بنیاد پر ’سرٹیفائیڈ فریش‘ قرار دیا گیا، جبکہ ۹؍ اکتوبر کو ویب سائٹ پر موجود تازہ فہرست میں اس کے ناقدین کے جائزوں کی تعداد ۵۰؍ ہوچکی تھی اور اسکور بدستور ۱۰۰؍ فیصد تھا۔ یہ درجہ ناقدین کے مثبت جائزوں کی عکاسی کرتا ہے، ناظرین کی ریٹنگ یا فلم میں پیش کیے گئے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں۔

اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریچل شور کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ ۸۰؍ منٹ کی دستاویزی فلم تل ابیب کی چھتوں سے رات کے وقت فلمائی گئی ہے۔ فلم میں غزہ میں شہری ہلاکتوں، فوجی اہداف کے انتخاب اور ان نظاموں کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے ذریعے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی جنگی مناظر کے بجائے گمنام اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے انٹرویوز اور ہاتھ سے بنائی گئی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔ فلم میں دو درجن سے زیادہ سابق اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے بیانات شامل ہیں، جن میں غزہ کی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے بارے میں ان کے مشاہدات اور فوجی نظام سے متعلق دعوے پیش کیے گئے ہیں۔ فلم سازوں نے ان بیانات کو فوجی اہداف کی نشاندہی، نگرانی اور حملوں کی منظوری کے نظام سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ بیانات انٹرویو دینے والے افراد کے دعوے ہیں؛ ہر واقعے اور الزام کی الگ سے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

فلم کی ہدایت کاری کے ساتھ اس کی تحقیقاتی نوعیت نے بھی اسے عالمی توجہ دلائی ہے۔ فلم میں مصنوعی ذہانت، نگرانی کے نظام اور ڈیٹا کی بنیاد پر اہداف منتخب کرنے کے طریقوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ فلم سازوں کے مطابق ایسے نظاموں کے استعمال سے فوجی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے خطرے اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے فلم کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ ’’نازا‘‘ کا عالمی پریمیر وینس فلم فیسٹیول میں ہوا، جہاں اسے جیوری کا خصوصی انعام ملا۔ فیسٹیول میں فلم کے اختتام پر تقریباً ۲۵؍ منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس کے بعد فلم نے امریکا میں محدود پیمانے پر نمائش شروع کی، جہاں بعض شوز میں ٹکٹ فروخت ہونے کی خبریں آئیں۔ ۹؍ اکتوبر سے اس کی امریکی نمائش مزید شہروں تک پھیلانے کا منصوبہ بھی سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ کی ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام، بین الاقوامی قانون کے فروغ میں خدمات کا اعتراف

روٹن ٹومیٹوز کا ۱۰۰؍ فیصد ٹومیٹومیٹر اسکور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ درج شدہ ناقدین کے جائزے مثبت رہے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ناقدین نے فلم کو یکساں نمبر دیے، یا فلم کے تمام نتائج کو قطعی طور پر ثابت شدہ تسلیم کیا ہے۔ اسی ویب سائٹ پر ناظرین کی ریٹنگ الگ شمار ہوتی ہے۔ فلم کے بارے میں مثبت جائزوں کے ساتھ اس کے دعووں، گمنام ذرائع اور اسرائیلی فوج کے مؤقف پر بحث بھی جاری ہے۔ فلم کی نمائش کے ساتھ سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مل ویلی فلم فیسٹیول کے دوران اس کی نمائش کے باہر اسرائیل کے حامی مظاہرین جمع ہوئے اور فلم کے مؤقف پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم حماس اور ایران کے کردار کو مناسب اہمیت نہیں دیتی۔ اس کے برعکس فلم کے حامی اسے اسرائیلی فوج کے اندر سے سامنے آنے والے بیانات اور غزہ میں شہریوں کے نقصان کی تحقیقات کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔

فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسروں میں جوناتھن گلیزر بھی شامل ہیں، جو آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’دی زون آف انٹرسٹ‘ کے ہدایت کار ہیں۔ ’NAZA‘ کی تیاری میں دی گارڈین اور جے ڈبلیو فلمز شریک رہے۔ فلم سازوں نے اسے غزہ میں جنگ کے دوران فوجی فیصلوں، شہری ہلاکتوں اور جواب دہی کے سوالات کی تحقیق کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ اس کے بعض دعووں پر اسرائیلی حکام اور حامیوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK