• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈالر پر کم ہوتا اعتماد، سونے کی بڑھتی چمک

Updated: January 18, 2026, 8:04 PM IST | New York

دنیا بھر کے مرکزی بینک تیزی سے اپنے سونے کے ذخائر بڑھا رہے ہیں اور ڈالر سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی پابندیوں نے ڈالر کی ساکھ پر سوال اٹھا دیئے ہیں۔ ایسے ماحول میں سونا ایک بار پھر مرکزی بینکوں کے لیے سب سے محفوظ اور قابل اعتماد اثاثہ بن کر ابھرا ہے۔

Dollar.Photo:INN
ڈالر۔ تصویر:آئی این این

سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوائی اڈے پر پرواز کا آغاز کرنے  کے صرف ۱۵؍ منٹ بعد سربیا کے مرکزی بینک کے گورنر کو ایک حیران کن فون آیا۔ بلغراد کے ہائی سیکوریٹی والٹ میں بھیجی جانے والی کروڑوں ڈالر کی سونے کی اینٹیں رن وے پر ہی رہ گئی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ ایئر کارگو میں آج بھی تازہ پھول اور خوراک کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سربیا کا یہ واقعہ صرف ایک معمولی غلطی نہیں، بلکہ اس بڑے تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو دنیا کے مرکزی بینکوں کے رویے میں تیزی سے ہو رہی ہے۔
مرکزی بینکوں میں سونے کی دوڑ
سربیا اکیلا ملک نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک بڑے پیمانے پر سونے کے ذخائر بڑھا رہے ہیں۔ دہائیوں سے چلی آ رہی روایتی اقتصادی سوچ کو پلٹتے ہوئے یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ غیر یقینی عالمی ماحول میں سونے کو سب سے محفوظ اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے درمیان سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ حال ہی میں سونے کی قیمت ۴۶۰۰؍ ڈالر فی اونس سے اوپر گئی اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ مزید بڑھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنگنا رناؤت کی اے آر رحمان پر شدید تنقید، موسیقار کو ’’متعصب اور نفرت انگیز‘‘ قرار دیا

ڈالرس پر اعتماد کیوں کم ہوا؟
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ امریکی ڈالر پر کم ہوتا اعتماد ہے۔ امریکی پالیسیوں میں غیر استحکام، مرکزی بینکوں کی آزادی پر سوالات اور پابندیوں کا بڑھتا ہوا استعمال کئی ممالک کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد جس طرح روسی مرکزی بینک کی غیر ملکی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا، اس سے کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ بحران کے وقت ان کے ڈالر پر مبنی ذخائر بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممالک اپنے ریزروز کو ڈالر سے الگ سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:روہت شرما اور وراٹ کوہلی اگلے ۶؍ ماہ تک ہندوستان کے لیے کوئی میچ نہیں کھیلیں گے

ریزرو سسٹم اور ڈالر کا کردار
 کسی بھی ملک کے لیے سرکاری ریزرو  اس کی اقتصادی حفاظت کا  ضامن  ہوتے ہیں۔ ان میں ڈالر، یورو، ین جیسی کرنسیاں، بانڈز، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اثاثے اور سونا شامل ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک ڈالر عالمی مالیاتی نظام کی ریڑھ  رہا ہے اور بین الاقوامی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔ لیکن اب اس کی حصہ داری بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ایک دہائی قبل جہاں مرکزی بینکوں کے کل ریزرو میں ڈالر کا حصہ تقریباً ۶۶؍ فیصد تھا، وہ اب کم ہو کر تقریباً ۵۷؍ فیصد رہ گیا ہے۔
کوئی متبادل نہیں، اس لیے سونا محفوظ ہے
 اگرچہ ڈالر کمزور ہو رہا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ڈالر کا کوئی براہِ راست اور مضبوط متبادل موجود نہیں ہے۔ یورو، پاؤنڈ، ین یا یوان میں سے کوئی بھی عالمی سطح پر اتنا مؤثر نہیں بن سکا۔ ایسے میں مرکزی بینکوں کے پاس سب سے قابل اعتماد متبادل صرف سونا ہی بچتا ہے۔ سونا کسی ملک کی ذمہ داری نہیں ہوتا اور ہزاروں سال سے یہ قدر کا قابل اعتماد ذخیرہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK