Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی:کیمیکل کمپنیوں کا گندہ پانی لے جانے والی پائپ لائن پھٹ گئی، شہری پریشان

Updated: April 04, 2026, 10:34 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli

ایم آئی ڈی سی علاقے میں گٹروں کی کھدائی کے دوران ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت کے باعث نہ صرف کیمیکل زدہ فضلے کی پائپ لائن پھٹ گئی بلکہ زیر زمین گیس اور بجلی کی فراہمی کے تار بھی کٹ گئے۔

Contaminated water from companies is visible on the road. Photo: INN
کمپنیوں کا آلودہ پانی سڑک پر نظر آرہا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایم آئی ڈی سی علاقے میں گٹروں کی کھدائی کے دوران ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت کے باعث نہ صرف کیمیکل زدہ فضلے کی پائپ لائن پھٹ گئی بلکہ زیر زمین گیس اور بجلی کی فراہمی کے تار بھی کٹ گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاں پورے علاقے میں زہریلا تعفن پھیل گیا وہیں کئی گھنٹوں تک بجلی کی معطلی نے شہریوں کو شدید گرمی میں بے حال کر دیا۔ 
تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پینڈھارکر کالج کے قریب سے گزرنے والی صنعتی فضلہ کی پائپ لائن اچانک زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔ پائپ لائن پھٹتے ہی کیمیکل ملا بدبودار پانی سڑکوں اور نالوں میں سیلاب کی طرح بہنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے علاقے میں ایسی شدید بو پھیلی کہ شہریوں کا سانس لینا محال ہو گیا۔ صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ گاڑی سواروں کو اپنی گاڑیاں بند ہونے اور انجن میں کیمیکل جانے کے ڈر سے راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ مقامی بیدار شہریوں نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا۔ جس کے بعد شب کے ڈھائی بجے کے قریب مرمتی کام شروع ہو سکا جب پانی کا دباؤ کم ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: شارک ٹینک کی جج کا اعتراف، کہا: نماز صحت کیلئے از حد مفید ہے

ذرائع کے مطابق گٹروں کی کھدائی کے لئے استعمال ہونے والی جے سی بی مشین نے مہانگر گیس اور مہاوترن کی زیر زمین لائنوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اس غفلت کی وجہ سے جمعہ کی صبح ۵؍ بجے سے شام ۴؍ بجے تک بیشتر علاقوں میں بجلی اور گیس غائب رہی۔ ملاپ نگر اور جمخانہ روڈ جیسے گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی جس نے عوامی غم وغصے کو مزید ہوا دی۔ ملاپ نگر کے سینئر ڈاکٹر منگیش پاٹے نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان غیر معیاری تعمیراتی کاموں اور لاپروا ٹھیکیداروں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ شہریوں کے ہمراہ ایم آئی ڈی سی دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کر دیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK