کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں طبی جانچ کے نام پر مبینہ سنگین لاپروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 10:45 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں طبی جانچ کے نام پر مبینہ سنگین لاپروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں طبی جانچ کے نام پر مبینہ سنگین لاپروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہیموگلوبین کی کمی کا علاج کرانے اسپتال پہنچنے والی ۱۷؍ سالہ لڑکی کو وہاں کئے گئے بار بار کے پریگننسی ٹیسٹ میں حاملہ قرار دے دیا گیا جبکہ باہر سے کرائے گئے ٹیسٹ میں حمل کی رپورٹ منفی آنے سے اسپتال کی تشخیصی نظام اور طبی جانچ کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ وہیں اس غلط رپورٹ نے نابالغ لڑکی اور اس کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ نابالغ لڑکی ہیموگلوبین کی کمی کے علاج کیلئے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ علاج کے دوران اس کا پریگننسی ٹیسٹ کیا گیا جس میں رپورٹ مثبت آنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ ۳؍ مرتبہ حمل کی جانچ کی اور ہر بار رپورٹ پازیٹو دی۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب اسپتال سے منسلک کرشنا ڈائگنوسٹک سینٹر میں کی گئی جانچ اور سونوگرافی رپورٹ میں بھی حمل کی تصدیق کا تاثر دیا گیا۔ اسپتال کی رپورٹ پر اہل خانہ کو یقین نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھئے:یوم آزادی پر مفت فُٹ ویئر تقسیم کرنے کااعلان
متاثرہ لڑکی کے والد نے بازار سے پریگننسی ٹیسٹ کِٹ خرید کر دوبارہ جانچ کروائی جس کا نتیجہ نیگیٹو آیا۔ اس کے بعد دوسرے پرائیویٹ لیب سے بھی جانچ کرائی گئی جہاں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایک ہی مریضہ کی جانچ میں سرکاری اسپتال اور اس سے وابستہ تشخیصی سینٹر کی رپورٹ کے برعکس باہر کی رپورٹ منفی آنے سے تشخیصی عمل کی درستگی اور اسپتال کی لیبارٹری میں اختیار کئے جانے والے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہاں سوال ہے کہ ایک ہی مریضہ کی مختلف جانچ میں ایسی سنگین غلطی آخر کیسے ہوئی اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو اسمبلی میں ’نیٹ‘ پیپر نظام ختم کرنے کی قرارداد منظور
لڑکی ذہنی کرب میں مبتلا
اس واقعہ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ محض ایک مبینہ غلط طبی رپورٹ نے ۱۷؍ سالہ لڑکی کو شدید ذہنی کرب سے دوچار کردیا۔ اہل خانہ کے مطابق رپورٹ سامنے آنے کے بعد لڑکی خوف اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی اور مسلسل روتی رہی۔طبی رپورٹ میں اس نوعیت کی مبینہ غلطی محض ایک تکنیکی خامی نہیں سمجھی جا سکتی کیونکہ خاص طور پر ایک کمسن لڑکی کے بارے میں حمل جیسی حساس اطلاع کا غلط اندراج اس کی ذہنی کیفیت اور خاندان کی سماجی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
تحقیقات کا مطالبہ
لڑکی کے اہل خانہ نے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائے اور غلط رپورٹ کی اصل وجہ سامنے لائی جائے نیز اگر کسی اہلکار یا ادارے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی مریض خصوصاً کمسن لڑکی کو ایسی اذیت ناک صورتحال سے نہ گزرنا پڑے۔