بی جے پی کے علاوہ سبھی پارٹیوں نے قرار داد کی حمایت کی، مرکز سے میڈیکل داخلہ نظام تبدیل کرنے کا مطالبہ۔
وجے تھلاپاتھی۔ تصویر: آئی این این
تمل ناڈو اسمبلی نے منگل کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے نیٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی حکومت نے اس مرکزی داخلہ امتحان کے خلاف اپنے دیرینہ موقف کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ قرارداد پر اسمبلی میں شدید بحث ہوئی۔ بی جے پی کے اکلوتے رکن اسمبلی ایم بھوج راجن نے قرارداد کی سخت مخالفت کی اور ووٹنگ سے عین قبل ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اس سے قبل ریاست کے وزیر صحت، کے جی ارون راج نے نیٹ مخالف قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ میڈیکل داخلوں کے لئے موجودہ مرکزی نظام کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔
ریاستی حکومت نے نیٹ کے خلاف متعدد وجوہات پیش کیں، جن میں امتحان کے انعقاد میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں، مہنگے کوچنگ مراکز کا بڑھتا کاروبار اور طلبہ کی خودکشی کے واقعات شامل ہیں۔ وزیر ارون راج نے مرکزی حکومت سے نیشنل میڈیکل کمیشن ایکٹ ، نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن ایکٹ اور نیشنل کمیشن فار ہومیوپیتھی ایکٹ سمیت متعلقہ مرکزی قوانین میں ضروری ترمیم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست چاہتی ہے کہ پرانا نظام بحال کیا جائے جس کے تحت تمل ناڈو میں بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے نمبروں کی بنیاد پر میڈیکل کورسیز میں داخلہ دیا جا سکے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نیٹ سماجی انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے اور میڈیکل تعلیم کے معاملے میں ریاستوں کے اختیارات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق نیٹ کا دیہی اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ پر غیر مساوی اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مہنگی نجی کوچنگ کی سہولت نہیں مل پاتی۔