خوف کی وجہ سے راحت کاری کئی گھنٹوں بعد شروع کی گئی۔ مہلوکین کیلئے ۴؍ لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ کا اعلان۔ ۲۱؍ سال کے دوران اسی علاقہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 11:00 AM IST | Shahab Ansari/Iqbal Ansari | Mumbai
خوف کی وجہ سے راحت کاری کئی گھنٹوں بعد شروع کی گئی۔ مہلوکین کیلئے ۴؍ لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ کا اعلان۔ ۲۱؍ سال کے دوران اسی علاقہ میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً ۳؍ بجے گھاٹکوپر کے علاقے اشوک نگر میں کھاڑی کے قریب واقع ٹیکری نمبر ۳؍ پر چٹان کھسکنے کا اندوہناک حادثہ ہوا جس میں خواتین اور بچوں سمیت ۷؍ افراد کی موت ہوگئی جبکہ دیگر ۷؍ افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال داخل کرایا گیا ہے۔ اس حادثہ کی وجہ سے بارش کے موسم میں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔
چٹان کھسکنے کے حادثہ میں محمد عارف شیخ (۳۰)، اِن کی اہلیہ مرجینہ، بیٹی منت (۴) اور بیٹا ابان (۲) کے علاوہ محمد سمیر انصاری (۱۴)، ساحل حسین قاضی (۱۹) اور وکیت رمیش یادو عرف راہل (۲۷) کی موت ہوگئی۔
متوفیوں کے رشتہ داروں کو شکایت ہے کہ فائر بریگیڈ اور دیگر ایجنسیوں نے حادثہ کے کئی گھنٹوں بعد راحت کاری شروع کی جس کی وجہ سے ملبے میں دبے افراد کے بچنے کی امیدیں معدوم ہوتی چلی گئیں۔ ان کے مطابق حادثہ رات تقریباً ۳؍ بجے پیش آیا تھا اور تقریباً پونے ۴؍ بجے تک پولیس وہاں پہنچ گئی تھی، اس کے بعد فائر بریگیڈ اور دیگر ایجنسیاں بھی پہنچ گئیں لیکن بارش جاری تھی اور انہیں خوف تھا کہ لینڈسلائیڈنگ دوبارہ نہ ہوجائے اس لئے وہ لوگ برسات بند ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ صبح تقریباً ۵؍ بجے ملبہ ہٹانے کی کارروائی شروع کی گئی۔
پہاڑی پر جس جگہ یہ مکانات واقع ہیں، وہاں پہنچنے کا راستہ کافی تنگ ہے جس کی وجہ سے راحت کاری کیلئے مشینیں وہاں تک پہنچانا ممکن نہیں تھا اور نتیجتاً ہاتھ سے ملبہ ہٹانے کا کام کیا گیا۔ البتہ مقامی افراد نے بڑھ چڑھ کر ملبہ ہٹانے میں مدد کی جس سے کام کچھ تیزی سے ہوا۔ حادثہ کے بعد میئر ریتو تائوڑے نے جائے حادثہ کا دورہ کیا متاثرین سے ملاقات اور گفتگو کی نیزمتوفیوں کے ورثہ کیلئے ۴؍ لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے ۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا۔
اس حادثہ میں زیادہ تر متاثرین غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ جن مکانات کواس حادثہ میں نقصان پہنچا، وہ ایسے انتہائی خطرناک مقامات پر واقع ہیں جہاں بارش کے موسم میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مکانات سستے کرایے پر مل جاتے ہیں اور لوگ جان جوکھم میں ڈال کر رہتے ہیں۔
اس حادثہ سے متعلق چند قابل ذکر باتیں یہ ہیں کہ چند متاثرین حال ہی میں ان مکانات میں منتقل ہوئے تھے اور اس خطرے سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ واضح رہے کہ ۲۰۰۵ء سے اب تک چٹان کھسکنے کا یہ واقعہ تیسرا واقعہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شیو سینا تنازع میں ۳؍ اہم آئینی نکات پر بحث
عارف شیخ ۳؍ روز قبل ہی بیوی اور دوبچوں کے ہمراہ اس گھر میں منتقل ہوا تھا۔ حادثہ میں چاروں کی موت ہوگئی
عارف شیخ اور ان کی بیوی مرجینہ۔ دوسری تصویر میں عارف کے والد نعیم شیخ (منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے) غمگین نظر آرہے ہیں
یہاں بدھ کوچٹان کھسکنے کا اندوہناک حادثہ میں ایک ہی خاندان کے ۴؍ افراد کی مو ت ہوگئی جن میں محمد عارف شیخ (۳۰) اِن کی اہلیہ مرجینہ، بیٹی منت (۴) اور بیٹا ابان (۲) شامل ہیں۔ راجا واڑی اسپتال میں جس وقت ان چاروں کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا تھا، اس وقت بڑی تعداد میں ان کے رشتہ دار اسپتال کے احاطے میں موجود تھے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کسی نہ کسی خاتون کی آہ و زاری کی آواز آرہی تھی۔ مرجینہ کی کم عمر بھانجی بھی اپنے کسی رشتہ دار کے بغل میں بیٹھی زار و قطار روتی دکھائی دی۔
عارف کے والد نعیم اور بھائی بھی کسی رشتہ دار کے آنے پر حالات بتاتے ہوئے رو پڑتے۔ ان کے ایک رشتہ دار محمد حسین نے اس نمائندے کو بتایا کہ عارف کپڑوں کے ’الٹریشن‘ کا کام کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے والد گزشتہ تقریباً ۳۵؍ برس سے ممبئی میں سلائی کا کام کرتے ہیں لیکن عارف اپنے آبائی وطن جونپور کے بدلاپور میں ہی مقیم تھا اور تقریباً گزشتہ ایک برس سے ممبئی میں کام کرنے لگا تھا۔ چند روز قبل ہی اس نے اپنے اہلِ خانہ کو بھی ممبئی لے آیا تھا۔ ان کا خاندان بڑا ہے اور والدین کرلا میں رہتے ہیں لیکن انہیں ڈھائی ہزار روپے کرایے پر یہاں مکان مل گیا تھا کم آمدنی کی وجہ سے وہ محض ۳؍ دن پہلے( اتوار، ۹؍ اگست) ہی اس گھر میں منتقل ہوئے تھے لیکن اس حادثہ میں سب فوت ہوگئے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’تقریباً ۶؍ ماہ قبل ہی ان کے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تھی اور اب ان کے گھر پر یہ غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ‘‘ عارف کی بڑی بہن جائے حادثہ سے قریب ہی دیگر چال میں رہتی ہیں اور حادثہ کے بعد انہوں نے ہی رشتہ داروں کو فون کرکے بتایا تھا کہ چٹان کھسکنے سے گھر ملبے میں دب گئے ہیں اور عارف اور اہلِ خانہ کا پتہ نہیں چل رہاہے جس پر تمام رشتہ دار وہاں پہنچے تھے۔
محمد حسین کے مطابق وہ ٹٹوالا میں رہتے ہیں اور تقریباً ساڑھے ۴؍ بجے وہاں پہنچ گئے تھے۔ حادثہ شب میں تقریباً ۳؍ بجے ہوا تھا لیکن ان کے پہنچنے کے کافی دیر بعد ملبہ ہٹانے کی کارروائی شروع ہوئی تھی۔ اتنی تاخیر کے باوجود ابان کے تعلق سے بتایا گیا تھا کہ جب اسے ملبے سے نکالا گیا تو اس کی سانسیں چل رہی تھیں لیکن اسپتال پہنچنے تک اس نے بھی دم توڑ دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عارف کی والدہ اور سب سے چھوٹا بھائی گائوں میں رہتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے فوراً بعد اسپتال سے ہی ان کی لاشیں ایمبولنس سے آبائی وطن لے جائی جائیں گی اور وہیں ان کی تدفین کی جائے گی۔ ان کی دو بہنیں ممبئی میں اپنی سسرال میں رہتی ہیں۔
#WATCH | Maharashtra: Landslide occurred at Gaushiya Chawl, Chirag Nagar, near Rathod Medical in Kurla, at around 3:48 am. Three to four people are suspected to be trapped. Rescue operation underway. pic.twitter.com/uLeHolcD70
— ANI (@ANI) August 12, 2026
سمیرانصاری چند روز کے لئے گائوں سے والد سے ملنے آیا تھا
لینڈسلائیڈنگ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے ۱۴؍ سالہ سمیر انصاری کے چچا زاد بھائی محمد آفتاب نے بتایا کہ ’’سمیر چند سال ممبئی میں رہ کر پڑھائی کرچکا ہے لیکن پھر وہ ایودھیا (یوپی ) میں اپنے دادا کے ساتھ رہنے لگا تھا۔ ‘‘ آفتاب کے مطابق ’’گھر کا کچھ کام بھی تھا اور وہ اپنے والد سے ملنا بھی چاہتا تھا اس لئے اسے ممبئی بھیج دیا گیا کہ چند روز یہاں رہ کر واپس دادا کے پاس چلا جائے گا۔ اگرچہ اس کے والد اور دیگر اہلِ خانہ حادثہ میں محفوظ رہے کیونکہ ان کا مکان دیگر چال میں واقع ہے۔ سمیر اپنے رشتہ دار اور دوست ساحل کے پاس چلاگیا تھا اور وہ دونوں ساتھ تھے۔ حادثہ میں ان دونوں کی موت ہوگئی۔ ‘‘سمیر کے والد ٹھیلا لگاتے ہیں اور کرایے کم ہونے کی وجہ سے یہاں رہ رہے تھے۔
ساحل کی منگنی ہوچکی تھی لیکن وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا
آفتاب نے بتایا کہ ساحل کی عمر تقریباً ۲۰؍ سال تھی اور اس نے ممبئی میں گاڑیاں دھونے کا کام شروع کیا تھا۔ وہ کمانے لگا تھا اس لئے گھر والوں نے اس کی منگنی کردی تھی اور جلد ہی شادی بھی کرانا چاہتے تھے لیکن ساحل ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اس اس کی شادی ٹل گئی تھی۔ آفتاب کے مطابق سمیر اور ساحل کی لاشیں ملنے پر ان دونوں کی تدفین بدھ کو ہی جری مری قبرستان میں کی جانے والی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۲۱۳؍ ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ
غبارہ فروش عطرالنساء کے ۳؍بیٹے بھی حادثہ میں زخمی
ساجدانصاری ، محمد علی اور سہیل انصاری بھا بھا اسپتال میں زیر علاج
گھاٹکوپر کی غوثیہ چال میں چٹان کھسکنے کے حادثہ میں زخمی ہونے والے ۷؍ افراد میں غبارہ فروش عطر النساء انصاری کے ۳؍ بیٹے سہیل انصاری(۱۸)، محمد علی انصاری(۱۴) اور ساجد انصاری(۱۶) بھی شامل ہیں۔ انہیں علاج کیلئے کرلا کے بھابھا میونسپل اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ اسپتال کے چھٹی منزلہ پرواقع جنرل وارڈ میں اپنے بیٹوں کے پاس موجود عطر النساء انصاری نے بتایا کہ بیٹوں کو پھسلی، سر اور پیر پر چوٹ آئی ہے۔ علی کا تو ناخن بھی نکل گیا ہے۔ سر جھکا کر دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس حادثہ میں وہ خود بھی زخمی ہوئی ہے لیکن دیوا رکی آڑ میں آنے سے اسے کم (سر میں ) چوٹ لگی ہے۔
فیض آباد (اتر پردیش)سے تعلق رکھنے والی عطرالنساء نے بتایا کہ گزشتہ رات مَیں اور میرا شوہر نیچے کے مکان میں سوئے ہوئے تھے جبکہ اوپری مکان میں میرے تینوں بیٹے اور بھتیجا سمیر انصاری اور ایک پڑوسی کا بیٹا سو رہے تھے۔ مسلسل بارش کے دوران گزشتہ رات تقریباً ساڑھے ۳؍ بجے پہاڑی سے چٹان کا حصہ ہمارے مکان پرکھسک گیا جس کے سبب سمیر انصاری کی موت ہو گئی جبکہ میرے تینوں بیٹے زخمی ہو گئے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’سمیر گاؤں سے یہاں پر پھیری کیلئے آیا تھا لیکن اس حادثہ میں وہ جل بسا۔ ‘‘ انہوں نے روتے ہوئے کہاکہ ’’تینوں بیٹوں کی دیکھ بھال کرنے کے سبب مَیں اپنے بھتیجے سمیر کی تدفین میں بھی نہیں جاسکی۔ ‘‘
’’کسی سے کہو کہ ہمارا مکان بنوا دے‘‘
نغمہ خان ا سپتال میں زخمی شوہر کے پاس
پہاڑی کے قریب چراغ نگر علاقےمیں واقع غوثیہ چال لینڈسلائیڈنگ حادثے میں نغمہ خان کا مکان بھی تباہ ہو گیا ہے اور ان کے شوہر معین الدین خان (۲۸) بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ انہیں علاج کیلئے کرلا میں واقع بھابھا اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ اسپتال میں نغمہ خان نے بتایاکہ ان کے شوہرگھر کے قریب کاجو پاڑہ میں ہی کاروبار کرتے ہیں۔ میری ۲؍ بیٹیاں ہیں۔ چھوٹی بیٹی اس حادثہ میں محفوظ رہی لیکن ہمارا گھر تباہ ہو گیا ہے۔ اگر ہما را گھر نہیں بنایا جاتا یا متبادل مکان نہیں ملتا تو ہم بے گھر ہو جائیں گے۔ ‘‘ انہوں نے نمائندۂ انقلاب سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آپ ہی کسی سے کہوکہ ہمارا گھر بنوادے۔ ‘‘
بیٹی کے ساتھ اسپتال میں رکنے کے سبب بچ گئی
اتر پردیش کے باندہ ضلع سے تعلق رکھنے والی نغمہ خان نے مزید کہا کہ’’ہم گزشتہ ۳۰؍ سال سے اسی جگہ پر رہ رہے ہیں۔ دوسرے علاقوں میں چٹان کھسکنے کے حادثات سنے تھے لیکن یہاں اس سے پہلے کبھی اس طرح کا حادثہ نہیں ہوا ۔ گزشتہ روز میری بڑی بیٹی کو زچگی کیلئے کرلا بھابھا اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور مَیں اسی کے ساتھ یہاں رکی تھی اس لئے مَیں بچ گئی۔ صبح ایک رشتہ دار نے مجھے حادثہ کی اطلاع دی۔ ‘‘