کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو کہا کہ آزادی کے۸؍ دہائیوں بعد بھی ملک میں ذات پات کا امتیاز برقرار ہے اور جب تک ملک کی بڑی آبادی کو مساوات اور اپنائیت کا حق نہیں ملے گا، تب تک قومی اتحاد کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو کہا کہ آزادی کے۸؍ دہائیوں بعد بھی ملک میں ذات پات کا امتیاز برقرار ہے اور جب تک ملک کی بڑی آبادی کو مساوات اور اپنائیت کا حق نہیں ملے گا، تب تک قومی اتحاد کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ پٹنہ کے باپو سبھا گار میں بہار کیسری ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کی۱۳۹؍ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس چھوا چھوت کے حامی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی دلتوں کی حالت میں بہتری نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھئے:جامعہ ملیہ: طلبہ کا احتجاج دوسرے ہفتےمیں داخل
انہوں نے اپنے ہلدوانی دورے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ۸؍ اگست۲۰۲۶ء کو وہاں رام لیلا میدان میں ان کی عوامی ریلی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں نے اس اسٹیج کی ہون کرکے تطہیر کی تھی، جہاں ان کا پروگرام منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے افسوس کا اظہار کیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ مسٹر کھڑگے نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم آئین کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن ذات پات کی سوچ رکھنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ شری کرشن سنگھ جدید بہار میں جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ انہوں نے زمینداری کا خاتمہ کرا کے اور کمزور طبقوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرکے سماجی انصاف کا ایک نیا باب شروع کیا۔ زراعت، صنعت، تعلیم، آب پاشی اور اداروں کی ترقی میں ان کا تعاون ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ۱۹۳۷ء میں شری کرشن سنگھ کی قیادت میں بہار میں کانگریس کی پہلی حکومت بنی تھی اور۱۹۴۶ء میں دوسری حکومت قائم ہوئی۔ آئین کے تحت۱۹۵۲ء میں ہونے والے پہلے اسمبلی انتخابات کے بعد سے۳۱؍ جنوری۱۹۶۱ء تک شری بابو بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔ کھرگے نے کہا کہ شری بابو کے دور حکومت میں زمینداری کے خاتمے، زمین کی اصلاحات سے متعلق قوانین نافذ کئے گئے۔