یونین کی بحالی کیلئے احتجاج کررہے کئی طلبہ زیر حراست ۔ جامعہ المنا ئی نےقابل اعتراض نعروں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور انتظامیہ کے رویہ کی مذمت کی۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 12:15 PM IST | Rauf Ramesh | New Delhi
یونین کی بحالی کیلئے احتجاج کررہے کئی طلبہ زیر حراست ۔ جامعہ المنا ئی نےقابل اعتراض نعروں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور انتظامیہ کے رویہ کی مذمت کی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لئے اسٹوڈنٹس یونین کی بھوک ہڑتال دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔اتوار کو وائس چانسلر نے کیمپس کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا لیکن بھوک ہڑتال کرنے والے طلباء سے کسی طرح کی بات چیت نہیں ہوتی تاہم اتوار کو بھی کیمپس میں یونین بحالی کے لیے احتجاج جاری رہا پولیس نے گیٹ نمبر سات سے کئی طلباء کو حراست میں لیا ہے جس میں طالبات بھی شامل ہیں۔
معتبر ذرائع کے مطابق یونین کی بحالی کے تعطل کو ختم کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی ایسے فارمولے پر اتفاق ہو سکے جو جامعہ انتظامیہ اور طلباء کے لیے قابل قبول ہو اور جامعہ میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہو سکیں دوسری جانب اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور جامعہ کی دیواروں پر قابل اعتراض نعروں پر سیاست تیز ہو گئی ہے وہیں جامعہ المنائی نے طلبہ کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر جاری پُرامن احتجاج کے خلاف انتظامیہ کے سخت گیر اقدامات، احتجاجی مقام پر توڑ پھوڑ، جامعہ کے دروازوں اور لائبریریوں کی بندش، کلاسوں کو معطل کرکے آن لائن نظام تعلیم نافذ کرنے اور طالبات سمیت طلبہ پر مبینہ تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔سابق نائب صدرطلبا یونین مرشد کمال نے وائس چانسلر اور رجسٹرار کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مارشل لا کے منتظمین کی طرح نہیں بلکہ طلبہ کے سرپرست اور نگہبان کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:نیہااحتجاج کے حق پر اٹل، پولیس پر سوال
انتظامیہ سیاسی دباؤ کے بجائے طلبہ کے جمہوری حقوق اور تعلیمی ماحول کے تحفظ کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کی تاریخ جبر کے خلاف مزاحمت اور آزادانہ اظہار رائے کی تاریخ ہے، اس لیے موجودہ انتظامیہ کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ انہوں نے متنازع نعروں کے معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ، مکمل تحقیقات اور پروکٹر و سکیورٹی عملے کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔سابق صدر طلبا یونین بدرالدین قریشی نے بالخصوص طالبات پر مبینہ تشدد اور اس میں اساتذہ کی مبینہ شمولیت کی مذمت کی۔ انہوں نے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ایسے اقدامات کا حصہ نہ بنیں جن سے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تصادم پیدا ہو۔سابق صدر جامعہ المنائی اسوسی ایشن ریاض ، غزال مہدی نے متنازع نعروں کو طلبہ کی تحریک سے توجہ ہٹانے کی ممکنہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
کنور دانش علی و دیگرنے کیا کہا؟
ایک مشترکہ بیان میں سابق رکن پارلیمنٹ اور جامعہ کے سابق طالب علم کنور دانش علی، جامعہ طلبا یونین کے سابق صدر بدرالدین قریشی ، جامعہ طلبہ یونین کے سابق نائب صدر مرشد کمال اور جامعہ المنائی اسوسی ایشن ریاض کے سابق صدر غزال مہدی نے کہا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ طلبہ کا جائز جمہوری حق ہے۔ انتظامیہ کو طاقت اور پابندیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے انتخابات کا شیڈول جاری کرنا چاہیے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ ، کنور دانش علی نے طلبہ پر مبینہ وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اپنے جائز جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جامعہ کی دیوار پر تحریر کیے گئے متنازع نعروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ بعض شرپسند عناصر طلبہ کی تحریک کو بدنام کرنے اور جامعہ کے وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ دانش علی نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کی گرتی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جامعہ کے دروازے کھولنے، لائبریریوں تک طلبہ کی رسائی بحال کرنے اور کلاسوں کو آن لائن منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔