• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیشنل پریئر بریک فاسٹ: مَیں جنت کا حقدار ہوں: ڈونالڈ ٹرمپ

Updated: February 06, 2026, 8:05 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیشنل پریئر بریک فاسٹ ۲۰۲۶ء میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے بارے میں کہا کہ وہ ’’غلطیوں کے باوجود شاید جنت تک پہنچ جائیں گے‘‘ کیونکہ انہوں نے ’’کامل لوگوں کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘‘ اس موقع پر ان کا خطاب سیاسی، مذہبی اور انتخابی پیغام کا مرکب رہا ۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیشنل پریئر بریک فاسٹ ۲۰۲۶ء میں ایک طویل اور غیر رسمی تقریر میں اپنی روحانی قابلیت اور سیاست کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’غلطیوں کے باوجود شاید جنت تک پہنچ جائیں گے‘‘ کیونکہ انہوں نے ’’کامل لوگوں کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘‘ اس موقع پر صدر نے اپنے مذہبی اور سیاسی مؤقف کو یکجا کرتے ہوئے اپنے دور حکومت کی خدمات پر زور دیا۔ سالانہ نیشنل پریئر بریک فاسٹ عموماً مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور عوامی لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے تاکہ وہ عقیدہ، خدمت اور قومی اقدار پر غور کریں۔ اس تقریب میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مذہب، امریکی طاقت، داخلی اور خارجی پالیسیوں پر بھی گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش کے کئی وزراء بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران حوالہ دیا کہ وہ خود ’’کامل شخص‘‘ نہیں ہیں، مگر انہوں نے ’’کامل لوگوں کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے‘‘ جس کی بنا پر وہ ’’شاید جنت تک پہنچ جائیں۔‘‘ انہوں نے یہ بیان مزاحیہ اور خود احتسابی انداز میں دیا جس میں انہوں نے اپنی سیاسی خدمات، مذہبی آزادی کی حمایت اور سماجی اصلاحات کو بھی شامل کیا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کے لیے مذہب کو مضبوط بنانا ان کی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے بائبل کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مذہبی آزادی اور ایمان رکھنے والے شہریوں کے حقوق ان کے ایجنڈے کا اہم جزو ہیں، اور اسی خدمت کے نتیجے میں وہ خود کے لیے بھی ایک بہتر آخرت کی امید رکھتے ہیں۔ تاہم صدر کے اس بیان اور روحانی خیالات نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل بھی پیدا کیے ہیں۔ بعض مبصرین نے ان کے اس بیان کو انتخابی مہم اور سیاسی جیت کا حصہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ نے مذہب کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا

تقریب میں صدر نے غیر مذہبی مباحثوں میں بھی حصہ لیا، جس میں انہوں نے اپنے کابینہ ارکان کی حمایت کی، امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملیوں پر بات کی اور ہمدردی کے ساتھ مختلف قومی اور بین الاقوامی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ کے بیانات نے مذہبی طبقوں کے اندر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ کس حد تک سیاسی رہنما اپنے ذاتی ایمان اور روحانی امیدوں کو عوامی بیان بازی میں لائیں۔ بعض مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ روحانیت کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دیگر نے صدر کے عقیدہ کے اظہار کو مثبت قرار دیا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ سے قبل بھی انہوں نے اس سال مختلف مواقع پر اپنی جنت تک پہنچنے کی امکان پر اظہارِ خیال کیا تھا، جس میں انہوں نے مذاق اور سچے اعترافات دونوں طرح کے انداز اپنائے تھے۔ اس بار انہوں نے مذہبی رہنماؤں اور سیاسی لیڈروں کے سامنے اپنی بات رکھی، جس سے ان کے سیاسی مؤقف اور روحانی سوچ کی ایک منفرد تصویر سامنے آئی۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی عمر اس وقت ۷۹؍ برس ہے اوریہی عمر، ان کے سیاسی سفر، متعدد قانونی اور عوامی تنازعات، اور ان کے مذہبی خیالات نے عوامی بحث کو مزید گہرا کیا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنی انتخابی مہم کے لیے بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK