اس بس سروس سے روزانہ ۳۰؍ تا ۵۰؍ مریض استفادہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی پدم شری ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا انتقال ہوا تھا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 1:00 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra
اس بس سروس سے روزانہ ۳۰؍ تا ۵۰؍ مریض استفادہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی پدم شری ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا انتقال ہوا تھا۔
بہار، مغربی بنگال اور تریپورہ کے سابق گورنر پدم شری ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا گزشتہ روز انتقال ہو گیا اور بدھ کو ان کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ ڈی وائی پاٹل نے غریبوں کیلئے کئی کام اور متعدد میڈیکل کالج اور اسپتال قائم کئے ہیں ۔ ایسے ہی اسپتال اور میڈیکل کالج میں نوی ممبئی کے نیرول علاقے میں واقع ڈی وائی پاٹل اسپتال بھی شامل ہے۔ ممبرا کے مریضو ںکو اس اسپتال لانے اور لے جانے کیلئے برسوں قبل مفت بس سروس شروع کی گئی تھی جو آج بھی جاری ہے۔ اس بس سروس کا مقصد غریب مریضوں کو اسپتال لانا اور انہیں علاج کروانے کے بعد واپس ان کے گھر ممبرا چھوڑنا ہے۔ اس بس سروس سے روزانہ ۳۰؍ تا ۵۰؍ مریض استفادہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عدالت نے نتن گڈکری سے متعلق تضحیک آمیز پوسٹ ہٹانے کا حکم دیا
اس سلسلے میں اسپتال انتظامیہ سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے بتایاکہ ’’ ممبرا اور آس پاس کے غریب مریض جو نیرول میں واقع اسپتال نہیں آسکتے اور آٹور کشا کا کرایہ برادشت نہیں کر سکتے، ان کی سہولت کیلئے ممبرا پولیس اسٹیشن سے روزانہ صبح ۹؍ بجے بس اسپتال کیلئے روانہ ہوتی ہے۔ اسپتال پہنچنے کےبعد مریض اپنا علاج کرواتے ہیں اور جن کا علاج مکمل ہو جاتا ہے، انہیں دوپہر ڈیڑھ بجے بس کے ذریعے اسپتال سے ممبرا پہنچایا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ یہ بس سروس مفت ہے ۔‘‘
اس مفت بس سروس سے استفادہ کرنے والی ایک مریضہ نے بتایا کہ ’’ ممبرا سے ڈی وائی پاٹل اسپتال کافی دور واقع ہے ۔ مَیں گھریلو کام کاج کرکے اپنا اور اہلِ خانہ کی کفالت کرتی ہوں اور میرے دانت کا علاج کرنا ہے۔مَیں اسی بس کے ذریعے اسپتال چلی جاتی ہوں اور اسی میں بیٹھ کر واپس بھی آجاتی ہوں۔ اگر یہ بس سروس نہ ہوں تو ہمیں آٹو رکشا سے اسپتال جانا پڑے گا جس کیلئے ۲۰۰؍ روپے تک خرچ آسکتا ہے اور مَیں اتنی رقم ادا نہیں کر سکتی ۔ اسپتا ل میں علاج بھی رعایتی فیس پر کیاجاتا ہےاس لئے یہ مہنگا نہیں پڑتا اور ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لائسنس بحال ہونے پر شالیمار اور نور محمدی ریسٹورنٹ دوبارہ کھل گئے
ایک کمسن بچے کے ساتھ سفر کرنے والی خاتون نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو بخار ہے اسی لئے علاج کیلئے وہ ڈی وائی پاٹل اسپتال جارہی ہے۔ اس کے پڑوسی نے وہاں سے علاج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ چونکہ مفت آمد و رفت کا بھی ذریعہ ہے اس لئے وہ بس کے ذریعے اسپتال جاتے ہیں ۔
واضح رہے کہ ڈی وائی پاٹل نے ملک بھر میں تقریباً ۲۰۰؍ ادارے، مختلف اقسام کی ۸؍ یونیورسٹیاں اور میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے اور اسپتال قائم کئے ہیں۔انہوںنے تعلیم، تعاون اور سماجی شعبوں میں کام کیاہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے بہت سے شاندار تعلیمی کمپلیکس اور پروجیکٹ جیسے ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل انٹرنیشنل اسٹیڈیم بھی قائم کیا۔